تہران/غزہ /نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک +صباح نیوز)ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی حملے میں حماس کے ہر دلعزیز سربراہ اور استقامتی محاذ کے مجاہد اسماعیل ہنیہ شہید ہوگئے۔ حماس نے تہران میں کیے جانے والے اسرائیلی حملے میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی تصدیق کی جب کہ حملے میں ان کا ایک محافظ بھی شہید ہوا ہے۔ ایرانی ٹی وی کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے، ان کی قیام گاہ پر حملہ کرکے انہیں رات 2بجے شہید کیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اسماعیل ہنیہ پاسداران انقلاب کے گیسٹ ہاؤس میں قیام پذیر تھے ،ان کی رہائش گاہ پرفضائی حملہ کرکے نشانہ بنایا گیا جب کہ اس کارروائی کی تفصیلات جاننے کے لیے حکام مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے نتائج جلد سامنے لائے جائیں گے۔ ایران کی حکومت نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر پورے ملک میں بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روز سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینا تہران کا فرض ہے۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنے لیے سخت سزا کی بنیاد فراہم کی ہے اور ایران اپنے ملک کے اندر ہونے والے اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ مجرم اور دہشت گرد صیہونی حکومت نے ہمارے گھر میں ہمارے مہمان کو شہید کیا اور ہمیں سوگوار کیا۔ آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اسماعیل ہنیہ نے ایک قابل عزت راہ میں سالوں تک جان داؤ پر لگا کر جدوجہد کی اور شہادت کے لیے ہمیشہ تیار رہے جب کہ انہوں نے اپنے لوگ اور بچے بھی اس راہ پر قربان کیے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ردعمل میں کہا ہے کہ ایران دہشت گرد اسرائیل کو اس شہادت کے بزدلانہ عمل پر پچھتانے پر مجبور کردے گا۔ اسرائیل کو بزدلانہ قتل کاحساب دینا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ ایران اپنی علاقائی سا لمیت اور وقار کا دفاع کرے گا۔ مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ آج ایران مزاحمت کے راستے کے قابل فخر اور مستقل ساتھی کی شہادت کا نوحہ کررہا ہے، کل میں نے اسماعیل ہانیہ کے فاتحانہ ہاتھوں کو بلند کیا تھا اور آج میں اسے اپنے کندھے پر رکھ کر دفناؤں گا۔دریں اثناء ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق ایران کے مذہبی اہمیت کے حامل اہم شہر قْم کی مسجد جْمکران میں ایرانی روایات کے مطابق انتقام کی علامت ’’سرخ پرچم ‘‘بھی لہرادیا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کا سخت اور دردناک جواب دیا جائے گا۔خیال رہے کہ اس سے قبل 2020 ء میں عراق میں ایرانی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے امریکی حملے میں قتل کے بعد سرخ پرچم لہرایا گیا تھا۔ ادھراسماعیل ہنیہ کی موت کی خبر کے بعد اپنے غم و غصے کے اظہار کے لیے فلسطین میں شہریوں نے دکانیں بند کیں اور شہر کی سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ان مظاہروں میں حماس کے سبز بینرز جہاں سربلند تھے وہیں سیاہ، سفید، سبز اور سرخ رنگوں والے فلسطینی پرچم بھی بڑی تعداد میں دیکھے جاسکتے تھے۔بہت سے بچے کھلونا مشین گنیں اٹھائے اپنے باپ کے کندھوں پر سوار اس احتجاج میں شامل تھے۔ سڑکوں پر نعروں کی گونج نمایاں تھی ۔بی بی سی کے نمائندے کے بقول فلسطینیوں کو لگتا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک وسیع تر تنازع کا آغاز ہو سکتا ہے جو مغربی کنارے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت بھی یہی چاہتی ہے۔ اعتدال پسند فلسطینی سیاستدان اور سابق صدارتی امیدوار مصطفی برغوتی نے مظاہرین کے ساتھ چلنے کی تیاری کے دوران مجھے اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اسرائیلی حکومت نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ ایک سیاسی، مجرمانہ فعل ہے اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس قتل سے فلسطینی مزاحمت کو توڑا جا سکے گا تو وہ سراسر غلط ہیں۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کاجواب دیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ایرانی دارالحکومت تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حماس کے رہنما خلیل حیہ نے کہا کہ شہیداسماعیل ہنیہ نے اپنی پوری زندگی دین اور ملک کے لیے وقف کر رکھی تھی۔انہوں نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کی پوری زندگی نامساعد حالات اور مختلف ممالک میں گزری۔خلیل حیہ کا کہنا تھا کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کی جانب سے اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اسماعیل ہنیہ ایران میں کسی خفیہ مقام پر تھے اور نہ ہی لوگوں سے الگ تھلگ تھے، اسماعیل ہنیہ کی شہادت کو کسی بھی طرح انٹیلی جنس کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔خلیل حیہ نے بتایا کہ اسماعیل ہنیہ کو میزائل کی مدد سے شہیدکیا گیا، مکمل تحقیقات کے نتائج کا انتظار ہے، ہنیہ کے ہمراہ موجود افراد کے مطابق میزائل کمرے کی کھڑکی توڑ کر سیدھا انہیں لگا۔حماس رہنما نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل پورے خطے کو آگ میں جھونک کر دنیا کو خطرے میں ڈال رہا ہے اسرائیل کوئی معاہدہ یا ڈیل نہیں چاہتا،صرف اپنی جنگی جارحیت جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔خلیل حیہ نے مزید کہا کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے تحریک مزاحمت کا قافلہ اپنا سفر جاری رکھے گا۔علاوہ ازیں حماس کے ایک اوررہنما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کا قتل ایک بزدلانہ فعل ہے جس کی سزا دی جائے گی، یہ ایک سنگین واقعہ ہے، ہنیہ کے قتل سے اسرائیل کو اس کے مقاصد حاصل نہیں ہوں گے،ہم بیت المقدس کو آزاد کرانے کے لیے کھلی جنگ لڑ رہے ہیں، بیت المقدس کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ادھر پاپولرفرنٹ فارلبریشن آف فلسطین کے ترجمان مہر الطاہر نے کہا کہ دشمن اسرائیل تمام سرخ لکیروں کو عبور کرگیا ہے، اسرائیل نے معاملات کو ایک جامع جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے، مزاحمتی تنظیمیں جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے، اسرائیلی حکومت ہنیہ کے قتل اورایرانی خودمختاری پرحملے کے گناہ پر پچھتائے گی، شہید اسماعیل ہنیہ کا قتل امریکی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی نمازہ جنازہ اور ان کی آخری رسومات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔حماس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسماعیل ہنیہ کی سرکاری اور عوامی سطح پر نماز جنازہ کی تقریب آج جمعرات کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ادا کی جائے گی۔ اس کے بعد اسماعیل ہنیہ کاجسدخاکی قطر کے دارالحکومت دوحا منتقل کی جائے گا جہاں وہ ایک طویل عرصے سے قیام پذیر تھے۔ان کی آخری رسومات کل جمعہ 2 اگست کو ادا کی جائیں گی جس کے بعد انہیں قطر کے شہر لوسیل کے قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ حماس اور ایران نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت میں اسرائیل پر ذمے داری عاید کی تاہم اسرائیل کی جانب سے تاحال نہ تو تردید اور نہ ہی تصدیق کی گئی ہے۔ایران، ترکیہ، قطر، روس اور چین نے شدید مذمت کی۔مزید برآں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ہنگامی اجلاس کی درخواست ایران، روس، چین اور الجزائر کے نمائندوں نے کی ۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کی جانب سے بیروت اور تہران پر حملوں کو کشیدگی میں ‘‘خطرناک اضافہ’’ قرار دیا ہے۔گوتریس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ بیروت اور تہران پرحملے خطرناک اشتعال انگیزی کی نشاندہی کرتے ہیں ایسے وقت میں جب تمام کوششیں غزہ میں جنگ بندی کی جانب اور تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جانب ہونی چاہئیں۔
