
میرپورخاص/ مٹیاری/ سکھر/ خیرپور (نمائندگان جسارت + جسارت نیوز) بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے، بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا، اہم شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، فصلوں کو بھی نقصان، وزیراعلیٰ کے معاون جنید بلند، میئر رئوف غوری اور میونسپل کمشنر کا شہر کا ہنگامی دورہ۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میں ہفتے کے روز صبح سویرے شروع ہونے والی ہلکی اور تیز بارش نے جل تھل ایک کر دیا، نشیبی علاقے ہیر آباد، پوسٹ آفس چوک، مارکیٹ چوک، اسٹیشن روڈ، ڈھولن آباد، غریب آباد، سیٹلائٹ ٹائون، بخاری ٹائون سمیت دیگر علاقے بارش کے سبب زیر آب آگئے، تمام اہم شاہراہیں بارش کے پانی میں ڈوب گئیں جس کی وجہ سے شہر تالاب کا منظر پیش کرنے لگا، بارش کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی جنید بلند، میئر عبدالرؤف غوری اور میونسپل کمشنر رفیق سہڑ نے پمپنگ اسٹیشنوں اور شہر کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے بارش سے پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا اور تمام سینیٹری ورکرز کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے انہیں ہنگامی طور پر شہر سے بارش کے پانی کی نکاسی کی ہدایت جاری کی۔ دوسری جانب بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بارش شروع ہوتے ہی صبح 7 سے 3 بجے تک تمام فیڈر پر بجلی کی سپلائی معطل رہی۔ دوسری جانب مٹیاری میں ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی بارش کے باعث نشیبی علاقے مارکیٹ چوک، ہائی اسکول روڈ، ایس پی دفتر روڈ، مٹیاری کالج اور ٹیلیفون ایکسچینج میں پانی بھر گیا جس کے باعث پیدل چلنے والے لوگوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب بارش کے باعث 8 گھنٹے بجلی بند رہی، بارش رکنے کے بعد ڈپٹی کمشنر محمد یوسف شیخ اور ٹاؤن افسر اسرار حیدر نے شہر کے مختلف ڈسپوزل اسکیموں کا دورہ کیا اور نکاسی آب کے عمل کا جائزہ لیا۔ اسی طرح سکھر، روہڑی سمیت دیگر مقامات پر موسلا دھار تیز بارش ہوئی جس کے نتیجے میں گرمی کا زور ٹوٹ گیا، بارش کے باعث شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا جو تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں، بارش سے مختلف علاقوں میں بجلی کے فیڈر ٹرپ ہو گئے اور بجلی کی فراہمی کئی گھنٹے معطل رہی۔ علاوہ ازیں غفلت برتنے والے میونسپل اہلکاروں کے خلاف ڈپٹی کمشنر نے کارروائی کرتے ہوئے 10 ملازمین کو معطل کر دیا، جبکہ، ڈیزل اور بیٹری چوری میں ملوث 4 ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ادھر خیرپور میں برسات کی پیشگوئی کے پیش نظر 5 گھنٹے کی بارش نے شہر ڈوبا دیا، شہر و دیگر گردو نواح میںکچے مکانات زمیں بوس ہوگئے ، بارش ہونے کے باعث بجلی کا نظام درہم برہم، کھجوروں کی فصلوں اور آبادگاروں کو کروڑوں کا نقصان، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انتظامات دعوے دھرے رہ گئے، مختلف شاہراہیں ریلوے اسٹیشن روڈ، سوک سینٹر، کچہری روڈ، مہران یونیورسٹی روڈ، پھول باغ روڈ جھیل کا منظر پیش کر رہے ہیں اور میونسپل کمیٹی انتظامیہ و دیگر عملہ غائب رہا، شہر ودیگر مقامات میں کچے مکانات زمیں بوس ہوگئے۔ اس سلسلے میں شہریوں کا کہنا تھا کہ کروڑوں روپے بجٹ ہونے کے باوجود انتظامیہ کی کریشن کی نذر ہوجاتے ہیں۔ ایک ماہ اجلاس ہونے کے باوجود انتظامات نہ ہونے پر ڈی سی، چیئرمین میونسپل کمیٹی کو جیل میں ڈالنا چاہیے۔