الجزائر (مانیٹرنگڈیسک)الجزائر نے غزہ میں فوج بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے فلسطین کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے عہد کیا کہ ان کا ملک فلسطین بالخصوص غزہ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ صدر عبدالمجید تبون نے اس سلسلے میں مصر کے صدر جنرل محمد فتح سی سی سے کہا کہ وہ غزہ میں الجزائر کی فوج بھیجنے کے لیے مصر سے رستے فراہم کیے جائیں اور ہم مصر کے رستے سے اسرائیل میں داخل ہونا کا طریقہ جانتے ہیں۔انہوں نے کہا ہم اسرائیلی فوج کا مقابلہ کر تے ہو ئے غزہ میں داخل ہو جائیں اور اسرائیل ہماری فوج کو وہاں سے نکا ل نہیں سکتا ہے۔مہر خبررساں ایجنسی نے المیادین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک کے صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر حصہ لینے والے الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے اس بات پر زور دیا ہے کہ الجزائر غزہ کی تعمیر نو میں مدد کے لیے فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ 7 ستمبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم کے چوتھے دن، تبون نے شمال مشرقی علاقے قسطنطنیہ میں ایک تقریر کے دوران کہاکہ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر وہ مصر اور غزہ کے درمیان سرحدیں دوبارہ کھول دیتے ہیں تو ہم غزہ کی تعمیر نو میں مدد کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے تاکید کی کہ میں نے وعدہ کیا ہے اور سرحدیں کھلتے ہی فوج تیار ہے اور ہمارے (امدادی) ٹرک داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ20 دنوں کے اندر، ہم غزہ میں 3اسپتال بنائیں گے اور صیہونیوں نے جو تباہ کیا ہے اسے دوبارہ تعمیر کرنے میں مدد کے لیے سیکڑوں ڈاکٹر بھیجیں گے۔تبون نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جنگ غیر منصفانہ اور قتل عام افسوسناک ہے۔ اسرائیل غزہ میں قتل عام کرکے فلسطین کاز کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن ہم اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔علاوہ ازیں غزہ میں فلسطینی صحافی ابراہیم محارب اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں شہید ہوگئے جب کہ دیگر 2صحافی زخمی ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق فلسطین اتھارٹی کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ صحافی کی شہادت گزشتہ روز خان یونس کے جنوبی علاقے میں ایک اپارٹمنٹ پر اسرائیلی فوج کے حملے میں ہوئی۔فلسطینی ویب سائٹ ’’ڈیلی نیوز‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے اس اپارٹمنٹ کو مکمل تباہ کردیا۔ ادھر اسرائیلی فوج کے حملے میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ شہید کے دفتر کے 6 ارکان سمیت درجن سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں ۔دوسری طرف حماس نے اس وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوگ کا اعلان کیا ہے۔۔حماس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رات گئے قابض فوج نے غزہ کے ساحل پر واقع الشاطی پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب شہری شہید ہوگئے جن میں اسماعیل ہنیہ شہید کے غزہ میں دفتر کے عملے کے 6 ملازمین بھی شامل ہیں۔علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر کو حماس کے ہاتھوں اغوا کیے جانے والے 6 مغویوں کی لاشوں کو ایک آپریشن میں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ عرب میڈیا کا بتانا ہے کہ اسرائیلی فوجی ترجمان کے بیان کے مطابق 6 مغویوں کی لاشوں کو خان یونس شہر کے ایک غار سے رات گئے ہونے والے آپریشن کے بعد برآمد کیا گیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل تمام مغویوں کو زندہ یا مردہ حالت میں واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے کہا کہ ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مغویوں کو کھوتے جائیں گے، ہمیں مغویوں کی واپسی کے لیے اب ہر صورت ڈیل کرنی ہوگی۔ مزید برآں ایران کے پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نینی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ایران کے جوابی حملے کا انتظار طویل ہوسکتا ہے۔غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان پاسداران انقلاب بریگیڈیئر جنرل علی محمد نینی نے اسرائیل پر ممکنہ جوابی حملے سے متعلق کہا کہ وقت ہمارے حق میں ہے ،دشمن کو منظم اور باقاعدہ جواب انتظار کرنا چاہیے، ایرانی رہنما حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ہمارا جواب ماضی کی کارروائیوں کا تسلسل نہ ہو۔