لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے کا حکومتی اعلان تشویشناک اور قابل مذمت ہے، فیصلے سے جہاں ایک طرف ہزاروں افراد کا روزگار دائو پر لگ جائے گا، وہیں دوسری جانب ان اسٹورز سے عوام کو میسر تھوڑا بہت ریلیف بھی ختم ہو جائے گا، حکمران اگر ملک و قوم کو آسانی نہیں دے سکتے تو مشکلا ت میں اضافہ بھی نہ کریں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اداروں سے کالی بھیڑوں کو نکال کر کرپشن کا خاتمہ اور اداروں کو ان سے پاک کیا جائے، لیکن نا اہل حکمرانوں نے انہیں بند کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 24-2023 کے دوران مہنگائی 26 فیصد تک رہنے کی پیشنگوئی، جبکہ پاکستان میں 40 فیصد لوگ خط ِغربت سے نیچے زندگی گزارنے کی خبریں، درحقیقت حکمرانوں کی بدترین معاشی ایجنڈے اور غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، پی ڈی ایم ٹو کی حکومت نے ماضی میں عوام کو ریلیف فراہم کیا اور نہ ہی اب ان سے اُمید ہے۔ انہوں نے کہا کہ دکھاوے اور ڈنگ ٹپائو قسم کی پالیسیوں سے معیشت میں بہتری ممکن نہیں، سندھ میں پیپلز پارٹی گزشتہ دو دہائیوں سے حکومت میں ہے، پنجاب میں بھی شریف فیملی لمبے عرصے سے اقتدار، جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی بر سر اقتدار ہے، لیکن اس کے باوجود عوام کی حالت زار میں کسی قسم کی کوئی بہتری نہیں ہوئی، لوگوں نے ان ساری پارٹیوں کو آزما لیا، یہ سب لوگ اقتدار میں ہیں لیکن اپنے اپنے صوبوں میں دہائیوں تک حکومتیں کرنے کے باوجود ڈیلیور کرنے میں بری طرح ناکام ہیں، پیپلز پارٹی سندھ اور مسلم لیگ پنجاب اپنی کارکردگی کے حوالے سے قوم کے سامنے جواب دہ ہیں۔ انہوں نے کہا حکومت کی نااہلی اور متعلقہ محکموں کی ناقص کارکردگی و کرپشن سے اشیا خورونوش عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہیں، عوام کے لیے سانس کا روح سے تعلق برقرار رکھنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ جاوید قصوری نے اس حوالے سے کہا کہ جب تک حکمران اللوں تللوں کو ختم اور عوامی مسائل کے حل کو اپنی ترجیح نہیں بنا لیتے، اس وقت تک ملک و قوم کی تقدیر بدل نہیں سکتی۔