ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکی صدور کی جان نشین کو خط لکھنے کی روایت کا اہم موڑ

اب سے چار دہائیاں قبل امریکہ کے صدر رونلڈ ریگن نے اپنے دور اقتدار کے اختتام پر اپنے جان نشین کے نام خط میں ایک نوٹ لکھنے کی روایت شروع کی جو اب تک تسلسل سے جاری ہے کیونکہ ہر سبکدوش ہونے والا صدر وائٹ ہاؤس کے نئے مکین کے لیے ایک خط چھوڑ کر جاتا ہے۔

اس سال جب 20 جنوری کو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی چار سالہ مدت صدارت کا آغاز کریں گے تو یہ امریکی تاریخ اور سیاست کا ایک انوکھا موڑ ہو گا۔

چار سال قبل ٹرمپ نے موجودہ صدر جو بائیڈن کے لیے صدارتی اوول آفس کے ڈیسک پر ایک نوٹ چھوڑا تھا۔

اور اب اگر صدر بائیڈن نئے صدر کے لیے ایک خط چھوڑیں گے تو یہ ایک بے مثال موڑ ہو گا۔


جو بائیڈن وائٹ ہاؤس کے اوول ہاؤس میں بدھ کو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں، فوٹو اے پی 13 نومبر 2024

جو بائیڈن وائٹ ہاؤس کے اوول ہاؤس میں بدھ کو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں، فوٹو اے پی 13 نومبر 2024

اس طرح بائیڈن تاریخ کے پہلے صدر ہوں گے جن کے لیے چار سال قبل ان کے پیش رو نے ایک نوٹ لکھا اور پھر چار سال بعد اب بائیڈن اسی پیش رو کے لیے جان نشین کے طور پر خط لکھیں گے۔

ٹرمپ انیسویں صدی کے طویل عرصے کے بعد چار سال کے وقفے کے بعد اپنے دوسرے صدارتی دور کا آغاز کرنے والے واحد امریکی صدر ہوں گے۔

ان نوٹس میں کیا کیا لکھا گیا؟

ریگن نے اپنے آٹھ سال تک ان کے ساتھ نائب صدر رہنے والے نو منتخب صدر ایچ ڈبلیو بش کے نام ایک نوٹ لکھنے اس روایت کا آغاز کیا لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ مستقل روایت بن جائے گی۔ خبر رساں ادارے "ایسوسی ایٹڈ پریس” نے مورخین کے حوالے سے ان نوٹس کی کچھ دلچسب تفصیلات رپورٹ کی ہیں۔

ریگن نے بش کے نام نوٹ لکھنے کے لیے ایک ایسے کاغذ کا انتخاب کیا جس پر کارٹونسٹ ساندرا بوانٹون کی ایک ہاتھی کی بنائی ہوئی تصویر تھی اور اس پر ری پبلیکن پارٹی کا ٹرکی پرندوں میں گھرا ہوا علامتی میسکاٹ بنا ہوا تھا جس پر لکھا تھا "ٹرکی (پرندہ) کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔”

اوول آفس کی صدارتی میز کے دراز میں رکھے اس خط میں ریگن نے بش سینئر کو مخاطب کر کے لکھا کہ انہیں بھی”اس قسم کی اسٹیشنری یا کاغذات استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ اسے اپنے پاس رکھیں۔”


فائل فوٹو

فائل فوٹو

نئے صدر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ریگن نے لکھا کہ وہ ان کے ساتھ کیےگئے لنچ یاد کیا کریں گے۔

بش سینیئر نے اپنے جان نشین بل کلنٹن کو 1992 کے الیکشن کے بعد ان کی صدارت کے آغاز سے قبل ایک نوٹ لکھ کر اس روایت کو برقرار رکھا۔

بش نے اس تمنا کا اظہار کیا کہ کلنٹن کا وائٹ ہاؤس میں قیام خوشگوار ہو گا۔

ساتھ ہی انہوں نے خبر دار کیا کہ مشکل وقت میں ان کو تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے حالات اور بھی دشوار بن جاتے ہیں۔ "لیکن آپ اپنے نقادوں کو اجازت نہ دیں کہ وہ حوصلہ شکنی کر کے آپ کو اپنے راستے سے ہٹا دیں۔”

انہوں نے مزید لکھا،”آپ کی کامیابی ہمارے ملک کی کامیابی ہے ۔ میں آپ کے ساتھ ہوں۔”


امریکہ کے سابق صدور (بائیں جانب سے) ابراہم لنکن، جارج واشنگٹن، براک اوباما، ڈونلڈ ٹرمپ، فرینکلن روزویلٹ، رونالڈ ریگن، بل کلنٹن اور ہیری ٹرومین۔

امریکہ کے سابق صدور (بائیں جانب سے) ابراہم لنکن، جارج واشنگٹن، براک اوباما، ڈونلڈ ٹرمپ، فرینکلن روزویلٹ، رونالڈ ریگن، بل کلنٹن اور ہیری ٹرومین۔

اسی طرح کلنٹن نے اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار کے بعد نئے آنے والے صدر جارج ڈبلیو بش کے نام ایک نوٹ لکھا جس میں صدارت کے عہدے پر کام کرنے کو عزت کا عظیم مقام قرار دیتے ہوئے بش کی کامیابی اور مسرت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

آٹھ سال بعد بش نے بھی نئے صدر اوباما کو مبارک باد کے پیغام کے ساتھ عہدہ صدارت کو اوباما کے لیے زندگی کے ایک عظیم باب سے تعبیر کیا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس میں مشکلات بھی درپیش ہو سکتی ہیں جس دوران دوست انہیں مایوس کر سکتے ہیں اور ناقدین انہیں برہم کر سکتے ہیں۔

اوباما نے ٹرمپ کے نام اپنے پیغام میں زبردست انتخابی مہم چلانے پر انہیں مبارک باد دی اور انہیں بتایا کہ دنیا کے لیے "امریکی قیادت ناگزیر” ہے اور "امریکی جمہوری اداروں اور روایات کے محافظ ہیں۔”

ٹرمپ نے بائیڈن کے نام جو نوٹ لکھا ہے اس کی تفصیل ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

(اس خبر میں شامل تفصیلات اے پی سے لی گئی ہیں)

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں