اسلام آباد : وزیراعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر دوحا روانہ ہوگئے ہیں۔
یہ دورہ اسرائیل کی جانب سے قطر پر حالیہ جارحانہ حملوں کے پس منظر میں ہورہا ہے، جس کے ذریعے پاکستان نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی، قطری شاہی خاندان اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور پیغام دیا ہے۔
وزیراعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی روانہ ہوا ہے جس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔
دوحا پہنچنے کے بعد وزیراعظم کی قطری امیر سے ملاقات طے ہے جس میں وہ بلاجواز اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے قطر کے عوام کے ساتھ تعاون اور ہمدردی کا اظہار کریں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم اس ملاقات میں عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کے اصولی موقف کو اجاگر کریں گے اور واضح پیغام دیں گے کہ پاکستان ہمیشہ مشکل وقت میں برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی کھڑا رہے گا۔
اس ملاقات میں خطے کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوگی، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے خطے کے مختلف ممالک پر بڑھتی ہوئی جارحیت اور اس کے نتیجے میں امن و استحکام کو لاحق خطرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کے ذریعے مستقبل میں ایسے اقدامات پر غور متوقع ہے جو نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔
پاکستان اور قطر کے تعلقات تاریخی اور برادرانہ بنیادوں پر قائم ہیں جن کی جڑیں مشترکہ عقائد اور روایات سے جڑی ہیں۔ ان تعلقات کو مزید فروغ دینے اور موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطوں کا تسلسل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ وزیراعظم کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو خطے کے بدلتے ہوئے حالات میں پاکستان کے فعال کردار اور اصولی موقف کو نمایاں کرتا ہے۔