نئی دہلی: بھارت میں ہندو انتہاپسندی ایک بار پھر اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور ہندوتوا نظریے کے پرچار کے لیے مودی سرکار نے انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ اگر ملک میں امن، بھائی چارہ اور ہم آہنگی قائم کرنی ہے تو سب کو سناتن دھرم اپنانا ہوگا۔ ان کے اس متنازع بیان نے نہ صرف بھارتی آئین کے سیکولر تشخص پر سوال کھڑے کر دیے ہیں بلکہ مودی حکومت کے حقیقی چہرے کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا تھا کہ سناتن دھرم ہی سب کی حفاظت اور بھلائی کا واحد راستہ ہے اور اگر ہمیں اس دھرم کو زندہ رکھنا ہے تو سنسکرت زبان کو فروغ دینا ہوگا۔
اس متنازع بیان پر بھارت سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کے علمبرداروں نے شدید تنقید کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان دراصل ہندوتوا کے اس ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے جو بھارت کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
واضح رہے کہ اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کے دوران پہلے ہی متعدد مساجد کو شہید کیا جا چکا ہے، جبکہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے مذہبی مقامات کو بارہا نشانہ بنایا گیا ہے۔ عیسائی برادری کے گرجا گھروں پر حملے، سکھوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور مسلمانوں پر جھوٹے مقدمات عام بات بن چکی ہے۔
مودی حکومت کے دور میں بھارت کا سیکولر آئین محض دکھاوا رہ گیا ہے۔ فاشسٹ نظریات پر مبنی بی جے پی حکومت نے مذہبی آزادی کو پامال کر کے دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کو ایک ہندو قومیت کے قلعے میں بدلنے کا خطرناک منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ جیسے سیاست دان بھارتی سیاست میں نفرت، تعصب اور شدت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو بھارت میں مذہبی فسادات، خانہ جنگی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
عالمی برادری خصوصاً اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ دنیا کا نام نہاد سب سے بڑا جمہوری ملک فسطائیت کے اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔