لاہور:۔ جعلی پیروں اور تعویذ کے نام پر سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے والوں کے خلاف حکومت نے بڑی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 297-اے میں ترمیم کرتے ہوئے جادو ٹونہ کرنے یا اس کی تشہیر پر سخت سزائیں مقرر کر دی ہیں۔نئے قانون کے تحت جعلی عامل یا جادو ٹونہ کرنے والے کو 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔
ترمیم کے نفاذ کے بعد جعلی پیروں کو اپنی دکانوں اور تشہیری بورڈز بھی فوری طور پر ہٹانے ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق شہریوں نے جعلی پیروں کے خلاف کارروائی کے لیے سیشن کورٹس سے رجوع کرنا شروع کر دیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوام کو دھوکے اور استحصال سے بچانے کے لیے حکومت کی بروقت اور موثر پیش رفت ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قانون کے تحت جعل سازی، گمراہ کن علاج یا تعویذ فروشی کے ذریعے مالی فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ممکن بن گئی ہے، جس سے معاشرے میں ایسے جرائم کے خاتمے میں مدد ملے گی۔