بھارتی اپوزیشن جماعت نے بہار اسمبلی انتخابات کے بعد حکومتی اتحاد پر بھاری مالی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کردیا ہے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار کی حکومت نے الیکشن جیتنے کے لیے اربوں روپے عوام میں بانٹے۔ یہ الزامات بھارتی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جن سوراج پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے عالمی بینک سے لیے گئے 14 ہزار کروڑ کے قرض سمیت مجموعی طور پر 40 ہزار کروڑ روپے عوامی مراعات اور ووٹ خریدنے پر خرچ کیے۔ پارٹی کے صدر ادے سنگھ کے مطابق مکھیا منتری مہیلا روزگار یوجنا کے تحت ہر خاتون کو 10 ہزار روپے دیے گئے، اور یہ رقم انتخابات سے ایک دن پہلے تک تقسیم ہوتی رہی۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں اور حکومتی اتحاد نے مالی طاقت استعمال کرتے ہوئے نتائج کو اپنے حق میں موڑا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ سچ سامنے آ سکے۔
واضح رہے کہ بہار کے انتخابی نتائج میں حکمران اتحاد این ڈی اے نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ 243 میں سے 203 سیٹیں جیت کر بی جے پی اور جے ڈی یو نے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرلی، جبکہ ایم جی بی کو 34 اور دیگر جماعتوں کو صرف 6 نشستیں مل سکیں۔