کراچی کے حالیہ سانحے پر جاری سیاسی بیانات کے تناظر میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ایم کیو ایم کی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی سانحے کو بنیاد بنا کر سیاست کرنے یا صوبے کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، عوامی مسائل پر سیاست نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے وفاق اور صوبے کے درمیان ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے فرق کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے براہِ راست وفاق کی معاونت سے مکمل کیے جاتے ہیں جبکہ کراچی کے لیے تعاون کا یہی معیار نظر نہیں آتا، کراچی میں یلو لائن اور ریڈ لائن جیسے منصوبوں پر سوال اٹھانے کے بجائے وفاق سے پوچھا جائے کہ گرین لائن منصوبہ تاحال کیوں ادھورا ہے۔
میئر کراچی نے زور دے کر کہا کہ شہر کے مسائل کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں اور نہ ہی کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ سانحوں کی آڑ میں انتظامی ناکامیوں کو صوبائی تقسیم کی بحث میں بدلا جائے، کراچی کے مسائل کا حل اختیارات کی لڑائی نہیں بلکہ باہمی تعاون میں پوشیدہ ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور سینیٹر فیصل سبزواری نے میئر کراچی کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیاست دراصل امکانات کا کھیل ہے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی تجویز بھی ایک آئینی اور سیاسی امکان کے طور پر زیرِ بحث آ سکتی ہے، ایم کیو ایم کسی سانحے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کر رہی ہے۔
فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل دہائیوں سے حل طلب ہیں اور اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ شہریوں کو ریلیف دینے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے تو متبادل راستوں پر بات کرنا کوئی غیر جمہوری عمل نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ شہر کو کب اور کیسے اس کا حق ملے گا۔
واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے کراچی کو وفاق کے زیرِ انتظام لانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ اس معاملے پر وفاقی، صوبائی اور شہری قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی آئندہ دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا سکتی ہے۔