فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے ملک میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے کیے گئے ایک اہم سروے کے نتائج جاری کر دیے ہیں، جن میں بدعنوانی سے متعلق عوامی تاثر اور ذاتی تجربات کے درمیان واضح فرق سامنے آیا ہے۔
سروے کے نتائج نے اس عمومی سوچ کو ایک حد تک چیلنج کیا ہے کہ ہر شہری کو سرکاری امور میں رشوت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سروے کے مطابق عوام کی اکثریت یعنی 67 فیصد افراد نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں براہ راست بدعنوانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اسی طرح 73 فیصد شرکا نے کہا کہ انہیں اپنی زندگی میں کبھی رشوت دینے کی ضرورت پیش نہیں آئی، جو ایک قابلِ توجہ اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ بدعنوانی کے حوالے سے عوامی تاثر خاصا منفی ہے۔ سروے میں شامل 68 فیصد افراد کا خیال ہے کہ سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہے جب کہ 27 فیصد نے بتایا کہ ان سے کسی نہ کسی مرحلے پر رشوت مانگی گئی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تاثر اور حقیقت میں واضح فرق موجود ہے۔
اسی طرح اقربا پروری کے حوالے سے بھی عوامی رائے اور ذاتی تجربے میں تفاوت دیکھا گیا۔ سروے میں 56 فیصد افراد کا تاثر تھا کہ سرکاری اداروں میں اقربا پروری عام ہے جب کہ 24 فیصد نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر ایسی صورتحال کا سامنا کیا جہاں میرٹ کی خلاف ورزی ہوئی۔
ایف پی سی سی آئی کے مطابق اس سروے کا بنیادی مقصد ملک میں شفافیت اور احتساب کا ایک مستند انڈیکس تیار کرنا ہے تاکہ پالیسی سازی میں حقیقی زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جا سکے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر اصلاحات اور بہتری کے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے سروے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے ذاتی مفادات کے لیے منفی تاثر پھیلایا گیا، جب کہ یہ سروے اصل حقائق سامنے لانے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہیں اور شفافیت کو مزید بہتر بنانے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔