غزہ کے لیے انسانی امداد پہنچانے کے خواہشمند عالمی کارکنوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں برس ایک ایسی بحری امدادی مہم شروع کرنے جا رہے ہیں جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی اور منظم ہوگی۔
اس مجوزہ فریڈم فلوٹیلا میں 100 سے زائد کشتیاں اور تقریباً ایک ہزار طبی عملے کے ارکان شامل ہوں گے، جن کا مقصد غزہ کے محصور عوام تک امداد پہنچانا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ برس اکتوبر میں اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی تقریباً 40 کشتیوں کو غزہ پہنچنے سے روک دیا تھا اور سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت 450 سے زائد عالمی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔
بدھ کے روز جنوبی افریقا میں نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ہونے والے ایک اجلاس میں فلوٹیلا کے منتظمین نے اعلان کیا کہ اس بار مہم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہوگی۔ اجلاس میں نیلسن منڈیلا کے پوتے مانڈلا منڈیلا بھی شریک تھے، جو گزشتہ مشن کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔
مانڈلا منڈیلا نے کہا کہ یہ مہم محض امداد تک محدود نہیں بلکہ انصاف اور انسانی وقار کے لیے ایک عالمی آواز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس بار بھی فلوٹیلا کو روکا گیا تو بھی یہ غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا ایک طاقتور پیغام ہوگا۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام اس مہم کو تشہیری اقدام قرار دیتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ غزہ میں امداد کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی، تاہم فلسطینی حکام اور عالمی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں امداد کی مقدار انتہائی ناکافی ہے اور انسانی بحران بدستور سنگین ہے۔
اکتوبر میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فورسز غزہ کے 53 فیصد سے زائد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہیں، جہاں سے شہریوں کو انخلا کے احکامات دیے جا چکے ہیں۔ غزہ کی بڑی آبادی ساحلی پٹی کے ایک محدود علاقے میں خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
اُدھر اقوام متحدہ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں خطرناک اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق صرف جنوری میں تقریباً 700 فلسطینی بے گھر ہوئے، جو اکتوبر 2023 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔