اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارت کا کردار ہے، جبکہ بلوچستان کو درپیش مسائل کو سمجھ کر ان کا الگ الگ حل نکالنا ناگزیر ہے۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار امن کے لیے تمام طبقات کو مل کر کام کرنا ہوگا، بلوچستان میں امن کا قیام اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام محب وطن پاکستانی ہیں، تاہم بلوچستان کے بحران کی اصل نوعیت کی درست نشاندہی کیے بغیر اس کا حل ممکن نہیں، ماضی میں جو کچھ ہو چکا ہے اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، لیکن مستقبل کے لیے درست حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بلوچستان اس وقت دو مختلف نوعیت کے بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے اور دونوں کے حل کے طریقہ کار الگ ہونے چاہئیں، غلطی یہ ہو رہی ہے کہ دونوں مسائل کو ایک ہی انداز میں حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر شناختی کارڈ دیکھ کر شہریوں اور خاندانوں کو نشانہ بناتے ہیں، لیکن ایسے واقعات کو کسی خاص قوم یا علاقے سے جوڑنا درست نہیں، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افراد ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً فیصل آباد میں بڑے پیمانے پر کاروبار کر رہے ہیں اور انہیں کہیں امتیازی سلوک کا سامنا نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے جعفر ایکسپریس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے روز بھارتی میڈیا پر جشن کا ماحول تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے اور عوام کو مشکلات میں ڈالنے والے عناصر کو نجات دہندہ کہا جا سکتا ہے۔
جبری گمشدگیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں اور تشدد کے مسائل ایک ہی دور میں شروع ہوئے اور امید ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ یہ مسائل بھی ختم ہو جائیں گے،دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد اور کارروائیوں کی کامیابی پر بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔