اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ آئین و قانون کی تشریح کا اختیار اب صرف وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا جس میں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی اختیارات کی نئی آئینی اسکیم کو واضح کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو عدالتی نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 27ویں ترمیم سے قبل آئین و قانون کی تشریح اور قانون سازی کے آئینی جائزے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس تھا، تاہم نئی آئینی ترمیم کے بعد یہ اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ آئینی عدالت نہ صرف آئین کی تشریح کر سکتی ہے بلکہ قانون سازی کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کا مکمل اختیار بھی رکھتی ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق آئین وفاقی آئینی عدالت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ تشریح سے متعلق کسی بھی مقدمے کا ریکارڈ طلب کر سکے۔ اس شق کو عدالتی نگرانی کے دائرہ کار میں وسعت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت آئینی عدالت براہِ راست مختلف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کا جائزہ لے سکتی ہے۔
یہ فیصلہ خیبر پختونخوا کے سیل ٹیکس سے متعلق ایک مقدمے میں تحریر کیا گیا۔
ماہرین قانون کے مطابق اس فیصلے سے عدالتی اختیارات کی حد بندی مزید واضح ہو گئی ہے اور مستقبل میں آئینی تنازعات براہِ راست وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔
قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے عدالتی ڈھانچے میں نئی جہت متعین ہوئی ہے جو آئندہ عدالتی نظائر پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔