ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’’میں ڈاکٹر صاحب کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیج سکتا‘‘ رؤح اللہ کا فاروق عبداللہ کے استعفے کے مطالبے پر ردِعمل

سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے سری نگر کے رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی کو لوک سبھا سے استعفیٰ دے کر دوبارہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے مطالبے کے ایک روز بعد، روح اللہ نے منگل کو کہا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں اس مطالبے کا جواب دیں گے۔ تاہم انہوں نے بزرگ رہنما کے لیے اپنے گہرے احترام کا بھی اظہار کیا۔صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب روح اللہ سے فاروق عبداللہ کے استعفے کے مطالبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے براہِ راست یہ نہیں بتایا کہ وہ استعفیٰ دینے کا چیلنج قبول کریں گے یا نہیں، تاہم ان کے جواب سے ظاہر ہوا کہ وہ اس مطالبے کو سنجیدگی سے زیرِ غور لا رہے ہیں۔
روح اللہ نے کہا، ’’یہ ممکن نہیں کہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے کوئی چیز مانگیں اور میں انہیں نہ دوں۔ یہ ممکن نہیں کہ میں انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دوں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’انہوں نے اس عمر میں مجھ سے کچھ مانگا ہے۔ میں ان کا احترام کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھ سے کچھ مانگیں اور میں انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دوں۔‘‘روح اللہ نے کہا کہ وہ ’’چند دنوں میں جواب دیں گے۔‘‘
ان کا یہ بیان فاروق عبداللہ کے اس چیلنج کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں نیشنل کانفرنس صدر نے کہا تھا کہ اگر روح اللہ سمجھتے ہیں کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں انہیں ووٹ بنیادی طور پر ان کی اپنی سیاسی حیثیت کی وجہ سے ملے تھے تو وہ استعفیٰ دے کر دوبارہ عوام کے پاس جائیں اور دیکھیں کہ انہیں کتنے ووٹ حاصل ہوتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ اختلاف نیشنل کانفرنس کی سیاسی حکمتِ عملی، بالخصوص دفعہ 370 کی بحالی، ریاستی حیثیت کی واپسی اور جموں و کشمیر کے آئینی حقوق کے معاملات پر بڑھتے ہوئے عوامی اختلافات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ روح اللہ پارلیمنٹ میں دفعہ 370 کی بحالی کا مسئلہ اٹھانے کے لیے آزاد ہیں، تاہم انہوں نے اس معاملے سے نمٹنے کے ان کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا۔
نیشنل کانفرنس صدر نے پارٹی تنظیم اور نظم و ضبط کی اہمیت کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی ٹکٹ پر انتخابات لڑنے والے امیدواروں کو پارٹی تنظیم اور کارکنوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔دوسری جانب روح اللہ کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی سیاسی پوزیشن عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ کی عکاسی کرتی ہے اور جموں و کشمیر کے آئینی حقوق کی جدوجہد ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
حالیہ دنوں میں روح اللہ نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ آئینی حقوق اور تحفظات کے حوالے سے اپنی مہم کو ایک خاص مرحلے تک پہنچانے کے بعد وہ پارلیمنٹ سے استعفیٰ دینے پر غور کر سکتے ہیں۔ اتوار کو انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل اپنے اختیارات سے محروم ہوتا رہا ہے اور سیاسی قیادت ان اختیارات کو واپس حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
تازہ بیان کے بعد یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ آیا روح اللہ اور نیشنل کانفرنس قیادت کے درمیان اختلاف صرف پارٹی کے اندرونی سیاسی مباحث تک محدود رہے گا یا یہ معاملہ ایک بڑے سیاسی تصادم کی شکل اختیار کرے گا۔
روح اللہ سے کشمیری پنڈتوں سے متعلق مقدمات دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بھی سوال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف فراہم کیا جانا چاہیے، تاہم انصاف کے نام پر انتقام سے گریز ضروری ہے۔انہوں نے کہا، ’’سب کو کشمیری پنڈتوں کے بارے میں باخبر ہونا چاہیے۔ انصاف ملنا چاہیے۔ انصاف کے نام پر کوئی انتقام نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
روح اللہ کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کشمیری پنڈتوں سے متعلق معاملات میں احتساب اور مفاہمت دونوں پر زور دے رہے ہیں اور ان کے مطابق کسی بھی تحقیقات یا قانونی کارروائی کا مقصد انصاف کی فراہمی ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سے بدلہ لینا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں