ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ریاست کی بحالی تک کانگریس کابینہ میں شامل نہیں ہوگی: طارق قرہ

سری نگر/جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے واضح کیا ہے کہ ریاستی حیثیت بحال ہونے تک کانگریس عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت میں شامل نہیں ہوگی۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق قرہ نے کہا کہ گزشتہ دو برس سے کانگریس کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ ریاستی حیثیت کی بحالی تک پارٹی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت کی حمایت کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کانگریس کابینہ میں شامل ہوگی۔
جے کے پی سی سی صدر نے کہا کہ کانگریس نے نیشنل کانفرنس حکومت کو صرف جموں و کشمیر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد کے تحفظ کے مقصد سے حمایت فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے ساتھ ساتھ زمین، ملازمتوں اور قدرتی وسائل پر عوام کے حقوق کا تحفظ کانگریس کے بنیادی مطالبات میں شامل ہے۔
طارق قرہ نے کہا کہ کانگریس بی جے پی اور تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف حکومت کی حمایت جاری رکھے گی، تاہم پارٹی عوام سے متعلق مسائل اٹھانے کا اپنا حق محفوظ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی حمایت کا مطلب خاموش رہنا نہیں ہے اور کانگریس عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ان مسائل پر آواز بلند کرتی رہے گی جو براہ راست عوام کو متاثر کرتے ہیں۔
حالیہ بجلی ٹیرف میں اضافے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طارق قرہ نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ کانگریس نے ابتدا ہی سے اس اضافے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا ہے جب عام صارفین پہلے ہی بقایا بلوں کے بڑھتے بوجھ اور بجلی کنکشن منقطع ہونے کے خدشے کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی عوام کے مفاد میں۔ حکومت کو عام صارفین کو درپیش مشکلات کا جائزہ لے کر ان کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 16 اکتوبر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں چھ رکنی کابینہ نے حلف اٹھایا تھا، جس میں کانگریس کا کوئی رکن شامل نہیں تھا۔ نیشنل کانفرنس، جو انڈیا اتحاد کا حصہ ہے، آرٹیکل 370 کی منسوخی کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ گزشتہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور کانگریس کی حمایت سے حکومت تشکیل دی۔ اس کے بعد سے کانگریس حکومت کو باہر سے حمایت فراہم کر رہی ہے جبکہ کابینہ میں شمولیت کے حوالے سے اپنے اختیارات کھلے رکھے ہوئے ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں