سعودی عرب کی تیل پائپ لائن پر حملے کے پیچھے غالباً ایران کا ہاتھ ہے، جبکہ ان کے بقول حوثی امریکا کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔
فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران اور سعودی عرب پر حملوں کے خدشات جلد بخوبی حل ہوجائیں گے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے آئرلینڈ کے دورے کے دوران آئرش صدر کیتھرین کونولی سے ملاقات کی، جس کے بعد ڈبلن میں صحافیوں سے گفتگو کی۔
ٹرمپ نے بتایا کہ ملاقات میں تجارت سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور آئرلینڈ مل کر بہترین کام کر رہے ہیں۔
صحافیوں نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ کیا سعودی عرب کو درپیش تازہ خطرات کے پیش نظر آبنائے ہرمز سے اہم تجارتی بحری آمدورفت کی بحالی میں امریکا مدد کرسکتا ہے؟
جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ سعودی ولی عہد ان کے اچھے دوست ہیں اور صورتحال مکمل طور پر ٹھیک ہوجائے گی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی تیل پائپ لائن پر حملے کے پیچھے غالباً ایران کا ہاتھ ہے، جبکہ ان کے بقول حوثی امریکا کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز امریکا کے کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ممکنہ طور پر امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی اور جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن میں حوثیوں کی سرگرمیوں اور سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن پر حملوں کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔