سری نگر/اینٹی کرپشن بیورو نے جمعہ کے روز بڈگام ضلع کے وترہیل علاقے میں ایک پٹواری کو 10 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پٹواری پر فرد (ریونیو ایکسٹریکٹ) جاری کرنے کے عوض رشوت طلب کرنے کا الزام ہے۔جاری ایک بیان میں اے سی بی کے ترجمان نے بتایا کہ بیورو کو ایک تحریری شکایت موصول ہوئی تھی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ گنڈ علی نائیک، وترہیل کے پٹواری بشیر احمد نے شکایت کنندہ سے فرد جاری کرنے کے عوض غیر قانونی رقم کا مطالبہ کیا۔
ترجمان کے مطابق شکایت کنندہ، جو گنڈ علی نائیک، وترہیل، تحصیل خانصاحب، بڈگام کا رہائشی ہے، نے اپنے بزرگ دادا کی جانب سے 21 جولائی 2026 کو فرد کے اجرا کے لیے آن لائن درخواست دی تھی، کیونکہ اس کے دادا خود اس معاملے کی پیروی کرنے سے قاصر تھے۔انہوں نے بتایا کہ درخواست جمع کرنے کے بعد شکایت کنندہ متعلقہ پٹواری سے درخواست کی صورتحال معلوم کرنے کے لیے رابطہ کیا، تاہم پٹواری نے ابتدا میں بتایا کہ محکمہ مال کا آن لائن پورٹل کام نہیں کر رہا اور کچھ عرصے بعد آنے کو کہا۔
ترجمان نے کہا کہ بعد میں پٹواری خانے کے متعدد چکروں کے باوجود مبینہ طور پر مختلف بہانوں سے معاملہ ٹالا جاتا رہا اور بالآخر فرد جاری کرنے کے عوض 12 ہزار روپے رشوت طلب کی گئی۔ بعد ازاں مذاکرات کے بعد رشوت کی رقم 10 ہزار روپے طے ہوئی۔
شکایت کنندہ رشوت دینے کے لیے تیار نہیں تھا، جس کے بعد اس نے اے سی بی سے رابطہ کرکے تحریری شکایت درج کرائی۔ترجمان کے مطابق شکایت موصول ہونے پر اے سی بی نے الزامات کی تصدیق کی، جس کے دوران رشوت طلب کیے جانے کی ابتدائی طور پر تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد پولیس اسٹیشن اے سی بی سری نگر میں انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعہ 7 کے تحت ایف آئی آر نمبر 14/2026 درج کرکے تحقیقات شروع کی گئیں۔
اے سی بی نے کارروائی کے لیے ایک ٹریپ ٹیم تشکیل دی۔ کارروائی کے دوران گنڈ علی نائیک، وترہیل، تحصیل خانصاحب، بدگام کے پٹواری بشیر احمد ڈار کو شکایت کنندہ سے 10 ہزار روپے رشوت طلب کرتے اور وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ترجمان نے بتایا کہ رشوت کی رقم آزاد گواہوں کی موجودگی میں ملزم کے قبضے سے برآمد کرلی گئی، جبکہ اسے قانون کے مطابق حراست میں لے لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔