لکھنؤ میں پریس کانفرنس کے دوران بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے آکاش آنند پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیمار ہونے کی جھوٹی خبریں پھیلا کر سماج میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ آکاش آنند آج بھی اپنے سسر کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔ مایاوتی کے مطابق ان کی رہائش پر تعینات پرسنل سکریٹری آلوک کمار کو آکاش آنند نے فون کیا تھا۔ آکاش آنند نے آلوک کمار سے پوچھا کہ کیا بہن جی بیمار ہیں؟ اس پر آلوک کمار نے جواب دیا کہ بہن جی بالکل ٹھیک ہیں اور اپنا کام کر رہی ہیں۔
مایاوتی نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد آکاش آنند نے آلوک کمار سے کہا کہ بہن جی کو یہ مت بتانا کہ میں نے فون کیا تھا۔ مایاوتی نے کہا کہ آکاش آنند کی نیت درست بھی ہو سکتی ہے اور خراب بھی ہو سکتی ہے۔ مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ آکاش آنند آج بھی اپنے سسر کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :
بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے آکاش آنند کو پارٹی سے مکمل طور پر باہر کر دیا ہے۔ اس سے قبل 3 ستمبر کو مایاوتی نے اپنے بھتیجے آکاش آنند کو قومی کوآرڈینیٹر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، لیکن انہیں پارٹی کے ایک عام کارکن کے طور پر رہنے کی اجازت دی تھی۔ اس کے بعد 9 ستمبر کو مایاوتی نے اشارہ دیا تھا کہ آکاش آنند کی ذمہ داریاں بحال کی جا سکتی ہیں، اگر ان کے سسر اور سابق راجیہ سبھا رکن اشوک سدھارتھ سیاست سے مکمل طور پر ریٹائرمنٹ لے لیں۔
آکاش آنند کے سسر اشوک سدھارتھ نے اگلے ہی دن 10 ستمبر کی صبح، مایاوتی کی بات مانتے ہوئے سیاست سے مکمل طور پر ریٹائرمنٹ لے لی۔ حالانکہ اس کے چند گھنٹے بعد ہی مایاوتی نے اعلان کر دیا کہ آکاش آنند کو پارٹی سے ’مکمل طور پر آزاد‘ کر دیا گیا ہے۔
برکس اجلاس سے متعلق مایاوتی نے مودی حکومت کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ سمجھ داری اور اچھی سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ مایاوتی نے اعلامیے میں فلسطین کے حل اور پہلگام دہشت گردانہ حملے کے ذکر کو بھی انتہائی اہم قرار دیا۔