نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان نے اپنی اقتصادی ترقی کو رفتار دینے کے ساتھ ساتھ فطرت کی صحت کا بھی پورا خیال رکھا ہے۔ ہندوستان پیرس موسمیاتی کانفرنس میں اعلان کردہ اپنے اہداف کو وقت سے پہلے پورا کرنے والا ملک ہے۔
مودی دارالحکومت میں نیشنل گرین ٹربیونل (این جی ٹی) کی جانب سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ ماحولیات اورآب وہوا کی رفتار کے مستقبل پر منعقدہ اس کانفرنس میں 17 ممالک کے جج، عدالتی حکام، وکلا، ماہرین ماحولیات اور ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔ افتتاح میں چیف جسٹس سوریہ کانت، ماحولیات و جنگلات کے وزیر بھوپیندر یادو اور این جی ٹی کے چیئرمین پرکاش شریواستو کی موجودگی میں وزیراعظم نے این جی ٹی ایپ کا بٹن دبا کر افتتاح کیا جس میں صارف این جی ٹی کے تمام معاملات کی صورتحال اور پیشرفت وغیرہ کی معلومات اپنے موبائل پر حاصل کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا، ”ہماری ترقی تیز رفتار بھی ہے اور صحت مند بھی۔“ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سال میں ان کی حکومت نے شمسی توانائی اور گرین انرجی کے شعبے میں بے مثال کام کیے ہیں، آبی گزرگاہوں اور ریلوے لائنوں کی ترقی اور برق کاری، میٹرو ریلوے نیٹ ورک کی توسیع اور الیکٹرک گاڑیوں کے تیز تر استعمال سے کاربن کے اخراج میں کمی آئی ہے۔ گھنے جنگلاتی علاقوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اتھر وید کے منتر ”ماتا بھومی : پترو اہم پرتھویا :“ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تہذیب میں زمین کو ماں کے روپ میں دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہندوستان، جی-20 میں واحد ایسا ملک ہے جس نے پیرس موسمیاتی کانفرنس (کاپ-21) میں کیے گئے تمام وعدوں (قومی عہدبستگیوں) کو وقت سے پہلے پورا کر کے دکھایا ہے۔“
انہوں نے کہا، ”گزشتہ 12 سال میں ماحولیات سے جڑے ہر شعبے میں… ہندوستان نے غیر معمولی پیشرفت کی ہے۔ ہندوستان یہ دکھا رہا ہے کہ ترقی اور ماحولیاتی استحکام ساتھ ساتھ کیسے چل سکتے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی ترقی پر بڑی توجہ دی ہے اور اس سمت میں اٹھائے گئے اقدامات نے ماحولیاتی تحفظ میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔
مودی نے بین الاقوامی مندوبین کے سامنے یہ بھی کہا، ”اکثر کاربن کے اخراج کی ذمہ داری غلط طریقے سے ترقی پذیر ممالک پر ڈالی جاتی رہی ہے۔ جبکہ تاریخی سچائی یہ ہے… آج بھی فی کس کاربن کے اخراج میں ہندوستان کا حصہ عالمی اوسط کے آدھے سے بھی کم ہے!“ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس عدالتی نقطہ نظر، سائنسی معلومات، ماحولیاتی گورننس کے نظام اور تمام عدالتوں میں ادارہ جاتی تجربات کے تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ یہ پالیسی سازی، نفاذ اور تعمیل میں حائل خلا سمیت اہم ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجوں پر بات چیت کی سہولت فراہم کرے گی اور ماحولیاتی گورننس اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں کو تلاش کرے گی۔