ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

زرعی یونیورسٹی کشمیر کے طلبا کا احتجاج جاری، مظاہرین کو فاریسٹر عہدے کیلئے اہلیت کے معیار پر خدشات

گاندربل/زرعی یونیورسٹی کشمیر کے شعبۂ جنگلات، واقع بنہامہ گاندربل میں زیرِ تعلیم طلبہ نے جموں و کشمیر کے محکمۂ جنگلات میں بھرتی کے قوانین اور اہلیت کے معیار سے متعلق حالیہ مسودے میں ترمیم کے خلاف اپنا پرامن احتجاج دوسرے روز بھی جاری رکھا۔ فیکلٹی آف فاریسٹری کے صحن میں سینکڑوں طلبہ نے یہ احتجاج محکمۂ جنگلات میں ’فاریسٹر‘کے عہدے پر براہِ راست بھرتی کے لیے مجوزہ اہلیت کے معیار اور ڈرافٹ ریکروٹمنٹ رولز کے جواب میں کیا۔
مظاہرین بھرتیوں کے عمل میں مکمل تعطل پر شدید برہم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ محکمے نے تقریباً ایک دہائی (10 سال) سے ڈگری ہولڈرز کے لیے داخلہ سطح (انٹری لیول) کی اہم اسامیوں کا کوئی اشتہار جاری نہیں کیا ہے۔ انہوں نے پالیسی میں موجود خامیوں اور تضادات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، جیسے کہ مخصوص تکنیکی اسامیوں کے لیے ایک سالہ ڈپلومہ ہولڈرز کو تو اہل قرار دے دیا گیا ہے جب کہ ہارٹیکلچر (باغبانی) اور ایگریکلچر (زراعت) کے اصل پروفیشنل بی ایس سی (B.Sc) گریجویٹس کو اس عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔
احتجاج میں شامل طلبہ نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ بھرتی کے مجوزہ قواعد پر نظرِ ثانی کرے اور اس میں ضروری ترمیم لائے۔ احتجاج کے دوران طلبہ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ بھرتی قوانین سے شعبۂ جنگلات میں زیرِ تعلیم طلبہ کا مستقبل اور روزگار کے مواقع شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ طلبہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ بھرتی کے قواعد و ضوابط مرتب کرتے وقت فاریسٹ ڈگری ہولڈرز کے تعلیمی پس منظر اور پیشہ ورانہ اہلیت کو لازمی مدنظر رکھا جائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں پرامن اور جمہوری انداز میں آواز بلند کر رہے ہیں اور حکومت و متعلقہ محکمے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مجوزہ قوانین پر نظرِ ثانی کر کے طلبہ کے خدشات کو دور کیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور ان کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے طلبہ کی نمائندہ تنظیموں کے ساتھ باہمی مشاورت کا عمل شروع کرے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں