سان فرانسسکو: مائیکروسافٹ نے ذاتی کمپیوٹرز کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کوڈنگ ماڈل اور نئی سیکیورٹی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد اے آئی ایجنٹس کو صارف کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
کے مطابق کمپنی نے این ویڈیا کے اسپارک چپس سے چلنے والا ’سرفیس لیپ ٹاپ الٹرا‘ بھی متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد اے آئی کے کچھ کام کلاؤڈ سے نکال کر زیادہ طاقت ور ونڈوز کمپیوٹرز پر منتقل کرنا ہے۔
مائیکروسافٹ نے بدھ، 7 اکتوبر کو ایک ایسے اے آئی کوڈنگ ماڈل کی رونمائی کی جو براہِ راست ذاتی کمپیوٹرز پر چل سکتا ہے۔ کمپنی نے ایسی نئی سیکیورٹی ٹیکنالوجی بھی متعارف کرائی جو اے آئی ایجنٹس کو صارف کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے اور غیر مجاز کام انجام دینے سے روکے گی۔
اسی طرح مائیکروسافٹ نے ایپل کو چیلنج کرتے ہوئے پی سی میں اے آئی کا استعمال بھی بڑھا دیا ہے، سان فرانسسکو میں ہونے والی تقریب میں سافٹ ویئر کمپنی نے طاقت ور سرفیس لیپ ٹاپ الٹرا پیش کیا، جو این ویڈیا کی اسپارک چپس سے لیس ہے۔ واشنگٹن کے شہر ریڈمنڈ میں قائم مائیکروسافٹ کمپنی ’ونڈوز‘ کو ایسے اے آئی ایجنٹس کے لیے ایک پلیٹ فارم بنانا چاہتا ہے جو ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ پر کمپیوٹر کوڈ لکھنے یا پیچیدہ کاروباری منصوبوں پر کام کرنے جیسے کام انجام دے سکیں۔
مائیکروسافٹ کو توقع ہے کہ وہ کام جو اس وقت کمپنی کے مہنگے ایژور (Azure) کلاؤڈ کمپیوٹنگ ڈیٹا سینٹرز میں انجام پاتے ہیں، اب طاقتور ونڈوز کمپیوٹرز پر منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ وہ مارکیٹ ہے جہاں مائیکروسافٹ اب بھی مضبوط پوزیشن رکھتا ہے، اور جہاں ہارڈویئر کی لاگت اس کے صارفین خود برداشت کرتے ہیں۔ حریف کمپنی ایپل بھی نئے میک کمپیوٹرز کے ذریعے اسی مارکیٹ کے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
تیزی سے خودمختار ہوتے اے آئی ایجنٹس سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے مائیکروسافٹ نے ’’مائیکروسافٹ ایگزیکیوشن کنٹینرز‘‘ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی لیپ ٹاپ یا ڈیسک ٹاپ پر کام کرتے ہوئے اے آئی ایجنٹس کو ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے اور ایسے کام انجام دینے سے روکنے کے لیے استعمال ہوگی جن کی انہیں اجازت نہیں دی گئی۔
ونڈوز اور ڈیوائسز کے لیے مائیکروسافٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر پاون داؤولوری نے بتایا کہ اینتھروپک، اوپن اے آئی اور این ویڈیا بھی ان سیکیورٹی ٹولز کو استعمال کریں گے۔ مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا نے کہا ’’ہمیں ڈیسک ٹاپ کو اے آئی ایجنٹس کے کام کرنے کے لیے سب سے محفوظ جگہ بنانا تھا۔‘‘
این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کے مطابق مائیکروسافٹ کی نئی ایگزیکیوشن کنٹینر ٹیکنالوجی، جسے مختصراً ’’ایم ایکس سی‘‘ کہا جاتا ہے، اے آئی ایجنٹس بنانے اور انھیں استعمال کرنے کے طریقے میں انقلاب برپا کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے بغیر اے آئی ایجنٹس کو اس طرح استعمال کرنا ممکن ہی نہیں ہوگا۔
اے آئی پی سی کی طرف منتقل
مائیکروسافٹ نے ایسے اے آئی ماڈلز بھی متعارف کرائے جو پہلے کلاؤڈ سے جڑے بغیر نہیں چل سکتے تھے، لیکن اب انھیں طاقتور ونڈوز ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز پر براہِ راست چلایا جا سکتا ہے۔ ان میں این ویڈیا کا اوپن سورس ’نیماٹرون‘ (Nemotron) ماڈل بھی شامل ہے۔
چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کے V4 ماڈل کا ایک ورژن ایسے کمپیوٹرز پر چل سکتا ہے جن میں کم از کم 60 گیگا بائٹ میموری ہو۔ یہ ماڈل کوڈنگ اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کے بعض کاموں میں اوپن اے آئی کے GPT-5 سے بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ مائیکروسافٹ اپنے کوپائلٹ اے آئی معاون کے ساتھ بھی اسی طرح کا طریقہ اختیار کر رہا ہے اور کاموں کو کلاؤڈ اور صارف کے اپنے لیپ ٹاپ کے درمیان تقسیم کر رہا ہے۔
مائیکروسافٹ کے کوپائلٹ کے سربراہ جیکب اینڈریو نے کہا ’’کوپائلٹ مشکل ترین کاموں کے لیے کلاؤڈ کا استعمال جاری رکھے گا، لیکن جہاں اخراجات یا رازداری اہم ہو، وہاں وہ کام مقامی ماڈلز کو سونپ سکتا ہے جو براہِ راست آپ کے کمپیوٹر پر چلتے ہیں۔‘‘
میٹا کا میوز (Muse) ذاتی اے آئی معاون بھی ونڈوز آلات کے لیے ایک مقامی ایپ کے طور پر دستیاب ہوگا اور اس میں مائیکروسافٹ کے نئے سیکیورٹی ٹولز میں سے بعض استعمال کیے جائیں گے۔ اوپن سورس اے آئی ایجنٹ نظام اوپن کلا بھی ان سیکیورٹی ٹولز کے ساتھ کام کر سکے گا۔
قیمت بڑی رکاوٹ
مائیکروسافٹ اور این ویڈیا کو درپیش اہم چیلنجز میں ان آلات کی بہت زیادہ قیمت بھی شامل ہے، کیوں کہ میموری چپس کی قلت کے باعث ان کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
نیا سرفیس لیپ ٹاپ الٹرا 2,599 ڈالر سے شروع ہوگا، جب کہ 20 کور پروسیسر، 128 گیگا بائٹ میموری اور ایک ٹیرا بائٹ اسٹوریج والے ماڈل کی قیمت 5,899 ڈالر ہوگی۔
ایپل کا میک بک پرو، جس میں 40 کور گرافکس چپ، 128 گیگا بائٹ میموری اور 2 ٹیرا بائٹ اسٹوریج ہے، 6,700 ڈالر کا ہے، تاہم دونوں کمپیوٹرز کا براہِ راست موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
مائیکروسافٹ کے سرفیس الٹرا کے ابتدائی ماڈل کی قیمت ایپل کے 1,999 ڈالر والے بنیادی میک بک پرو سے زیادہ ہے، تاہم مائیکروسافٹ کے ماڈل میں 24 گیگا بائٹ میموری ہے، جب کہ ایپل کے بنیادی ماڈل میں 16 گیگا بائٹ میموری موجود ہے۔
مائیکروسافٹ نے دو سال قبل اخراجات کم کرنے کے لیے اے آئی کے کام پی سی پر منتقل کرنے کا تصور پیش کیا تھا۔ اس وقت ایسے زیادہ تر لیپ ٹاپس کی قیمت 2,000 ڈالر سے کم تھی۔ تاہم میموری کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث این ویڈیا نے اے آئی ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر ’ڈی جی ایکس اسپارک‘ کی قیمت اس کی لانچ کے بعد تقریباً 75 فیصد بڑھا کر 6,950 ڈالر کر دی ہے۔
مور انسائٹس اینڈ اسٹریٹیجی کے تجزیہ کار آنشل ساگ نے کہا ’’دو سال پہلے سافٹ ویئر تیار نہیں تھا، لیکن ہارڈویئر موجود تھا۔ اب سافٹ ویئر تیار ہے، مگر ہارڈویئر اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ اسے مقامی طور پر چلانا مشکل ہے۔‘‘