ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

وزیر اعظم مودی نے لداخ میں 3,350کروڑ روپے کے پانچ اہم ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا

لیہہ /وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو لداخ میں تقریباً 3,350 کروڑ روپے کی لاگت کے پانچ اہم ترقیاتی منصوبوں کا ورچوئل طریقے سے افتتاح کیا۔ ان منصوبوں میں ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، اسٹریٹجک سڑک رابطے، بجلی کی فراہمی، آبی ذخائر کی تعمیر اور قدیم تاریخی ورثے کا تحفظ شامل ہے۔ان منصوبوں میں لیہہ کے کشوک بکولا رنپوچے ہوائی اڈے پر 640 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا نیا مسافر ٹرمینل بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق 23,800 مربع میٹر رقبے پر پھیلا یہ جدید ٹرمینل سالانہ 35 لاکھ مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نئے ٹرمینل میں توانائی کی بچت اور کاربن اخراج میں کمی کے لیے جیوتھرمل توانائی کا استعمال کیا گیا ہے۔ جدید سفری سہولیات کے ساتھ لداخ کے ثقافتی ورثے کی جھلک پیش کرنے والا یہ ٹرمینل خطے کے فضائی رابطے کو بہتر بنانے اور مسافروں کو سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔وزیر اعظم نے 298 کلومیٹر طویل نیمو-پدم-درچہ سڑک بھی قوم کے نام وقف کی۔ بارڈر روڈز آرگنائزیشن (BRO) کے ذریعے تعمیر کی گئی یہ سڑک لیہ کے نیمو کو ہماچل پردیش کے درچہ سے دور دراز وادی زنسکار کے راستے جوڑتی ہے۔
یہ سڑک سری نگر-لیہہ اور منالی-لیہہ شاہراہوں کے علاوہ لداخ کے لیے ایک متبادل رابطہ فراہم کرے گی۔ بلند ہمالیائی خطے اور شِنکون لا جیسے دشوار گزار پہاڑی درّے سے گزرنے والی یہ سڑک دفاعی نقل و حرکت اور مسلح افواج کو رسد پہنچانے کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ زنسکار کے باشندوں کو صحت، تعلیم، بازاروں اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی میں بھی مدد ملے گی۔
وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر کہا کہ لداخ کی ترقی میں ایک اور باب کا اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ان منصوبوں سے سفر آسان ہوگا، بعض علاقوں میں بجلی کی سہولیات بہتر ہوں گی، پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوگا اور قدیم ورثے کے تحفظ کو فروغ ملے گا۔توانائی کے شعبے میں وزیر اعظم نے 9 میگاواٹ کے ہانو چھوٹے پن بجلی منصوبے اور 66 کے وی کی ڈبل سرکٹ داہ-ہانو-خلتسی ٹرانسمیشن لائن کا افتتاح کیا۔ ان منصوبوں سے بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور لداخ میں بجلی کی فراہمی کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانے میں مدد ملے گی۔
لداخ کے قدیم آثار کے تحفظ کے لیے وزیر اعظم نے لیہ کے سندھ گھاٹ میں بھارت کے پہلے پیٹروگلیف کنزرویشن پارک کا بھی افتتاح کیا۔ لداخ میں قبل از تاریخ دور کے سینکڑوں چٹانی فن پارے اور نقوش موجود ہیں، جن میں جنگلی حیات، انسانی اشکال اور علامتی تصاویر شامل ہیں۔ یہ نقوش ہزاروں سال پرانی انسانی تاریخ کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔اس کے علاوہ وزیر اعظم نے پروجیکٹ ہِم سروور کے تحت 40 دیہات میں تیار کیے گئے 40 آبی ذخائر کا بھی افتتاح کیا۔ یہ منصوبہ مشن امرت سروور کے مقاصد کے مطابق لداخ میں پانی کے تحفظ اور دستیابی کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
لداخ میں برف پگھلنے اور گلیشیئرز سے حاصل ہونے والا پانی مختلف موسموں میں دستیاب ہوتا ہے، جبکہ بوائی کے اہم موسم میں کسانوں کو اکثر پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پروجیکٹ ہِم سروور کے تحت پانی کی دستیابی کے دوران اسے محفوظ کیا جائے گا تاکہ ضرورت کے وقت اسے آبپاشی اور زرعی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق اس سے کسانوں کی روزی روٹی کو سہارا دینے اور خطے میں طویل مدتی آبی تحفظ کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں