
افغانستان میں ہزاروں لوگوں کی زندگیوں سے خونی کھیل کھیلنے اور اس ملک کی معیشت و کلچر کو کو برباد کرنے والا امریکہ 19برس بعد امن معاہدہ کیلئے تیار ہو گیا ہے۔ملا عمر مجاہد کی قیادت میں طالبان کی حکومت روئے زمین پر ایک بہترین حکومت تھی جو سادگی اور معاملہ فہمی میں اپنی مثال آپ تھی لیکن وہاں پر امریکہ نے اپنے ایجنٹ بھیج کر افغانستان کی طالبان حکومت کو بدنام کیا انھیں دہشت گرد کہا گیا۔یہ کہاں کا انساف تھا۔اپنی آزادی اور خود مختاری کا دفاع کرنا اور اس کیلئے جہاد کرنا ہر قوم کا فرض ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت دہشت گردی کا نام نہیں دے سکتی ۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے اور یہ دنائے عالم کیلئے ایک بدترین مثال ہے۔اگر کسی ملک کے معاملات گھمبیر ہیں،خانہ جنگی کی کیفیت ہے یا دنیاوی لحاظ سے مفادات کا ٹکرائو ایسا ہے کہ اس کا کوئی مناسب حل ڈھونڈنا لازم ہے تو جنگ اس کا جواز ہر گز نہیں ہے۔دشمن جنگ کرتا ہے اور دوست اختلافات کو مزاکرات کے ذریعے حل کرنے پر توجہ دیتا ہے۔بحرحال میں صرف اتنا کہوں گا کہ دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات اور معاہدہ طالبان کی فتح عظیم ہے۔امریکہ اگر دنیا کی سپر پاور ہے تو اسے اپنی عزت اور وقار کا خیال رکھنا چاہئے۔
طالبان اور امریکا کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آج امن معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے جس کے تحت امریکا افغانستان سے مرحلہ وار فوجی انخلا کرے گا اور بدلے میں طالبان یقین دہانی کرائیں گے کہ افغان سرزمین مستقبل میں کسی دوسرے عسکریت پسند گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں ہوگا۔یہ معاہدہ عالمی سطح پر نہایت اہمیت کا حامل ہے جس کے ذریعے افغانستان میں 19 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوگا اور اس سے خطے میں امن و استحکام کی امید کی جارہی ہے۔اس معاہدے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر میں دستخط کیے جائیں گے جہاں گزشتہ ڈیڑھ سال سے مذاکرات جاری تھے۔سینیئر طالبان رہنما سمیت امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد اور امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو اس میں حصہ لیں گے جبکہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی وہاں موجود ہوں گے۔
امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کیلئے تیار اور خود اس پر دستخط کریں گے۔اس کی وجہ کیا ہے کہ ایک طویل مدت تک افغانستان میں بیگناہوں کا خون بہانے اور ایک اسلامی ملک کو کھنڈر بنا دینے کے بعد اب اپنے الیکشن میں جیت کیلئے امریکی صدر کو امن یاد آگیا ہے ۔امریکی مائیں اپنے فوجی بیٹوں کیلئے پریشان ہیں جو افغانستان میں خونریزی کرتے ہیں یا اس کا نشانہ بنتے ہیں لیکن یہ ایک لاحاصل جنگ ہے جو امریکہ کی قیادت میں انسانیت کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔راسخ العقیدہ مسلمان رہنما جنھیں دنیا طالبان کے نام سے جانتی ہے ان کے خلاف امریکہ نے اپنے اتحادیوں سے مل کر کیا کیاظلم نہیں کیے لیکن شاید انھیں اس بات کا ادراک نہیں کہ افغانستان پر کسی بدبخت کا قبضہ قیامت تک تسلیم نہیں ہوگا بلکہ ایک خالص اسلامی حکومت ہی افغان عوام کا مقدر اور خواہش ہے۔وہ کون تھے جن کو ملا محمد عمر مجاہد کی سادہ ترین لیکن خالصتا اسلامی حکومت سے بہت زیادہ تکلیف تھی؟ یاد رکھیں باطل جتنا بھی طاقتور ہو آخر اس نے ذلیل و رسوا اور تباہ ہو جانا ہے جبکہ اس کے مقابلے حق ہمیشہ غالب رہتا ہے۔یہ اللہ کی سنت اور ساری انسانیت کے لیے ایک واضع پیغام ہے