ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کاراباخ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر یورپ کا اظہارِ تشویش

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین نے نگورنو کاراباخ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جب کہ دوسری جانب آرمینیا اور آذربائیجان ایک دوسرے پر حملوں کے الزام عائد کررہے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے فریقین کے درمیان متنازع علاقے میں ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنائے جانے اور اس دوران ہونے والی ہلاکتوں پر ہمیں افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کو یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے منسک گروپ کے تحت بلاتاخیر بات چیت شروع کردینی چاہیے۔ واضح رہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان کاراباخ تنازع کے دیرپا حل کے لیے فرانس، روس اور امریکا کی قیادت میں تقریباً ایک دہائی قبل مذاکراتی عمل شروع کیا گیا تھا۔ اُدھر روس نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ماسکو حکومت کی ثالثی میں ہونے والی عارضی جنگ بندی سمجھوتے کی پاسداری کریں۔ علاوہ ازیں آذربائیجان کے صدر الہام علی ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ آرمینیا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں ترکی کو بھی شامل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ فرانس، روس اور امریکا پر مشتمل منسک گروپ جانب دار ہے، جس کی وجہ سے شام، لیبیا اور دیگر عالمی تنازعات میں ترکی کے اہم کردار کے باعث اسے بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
آذربائیجان: آرمینیا کی گولہ باری سے تباہ ہونے والے مکان کا ملبہ ہٹایا جارہا ہے

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں