سرینگر/مرکزی کابینہ کی جانب سے لداخ میں جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کا بینچ قائم کرنے کی منظوری کے چند روز بعد صدرِ ہند نے ’یونین ٹیریٹری آف لداخ (جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے بینچ کی لداخ میں نشست) ریگولیشن، 2026‘نافذ کردیا ہے، جس کے ذریعے اس فیصلے پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
ضابطے کی نقل کے مطابق، جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے جج صاحبان اور ڈویژن بینچ لداخ یونین ٹیریٹری میں بھی ایسی جگہ پر عدالت لگا سکتے ہیں جس کا تعین چیف جسٹس، لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری سے کریں گے۔
ضابطے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اپنے صوابدیدی اختیار کے تحت یہ حکم دے سکتے ہیں کہ لداخ یونین ٹیریٹری سے متعلق کسی بھی مقدمے یا مقدمات کے کسی مخصوص زمرے کی سماعت، حسبِ ضرورت، سرینگر یا جموںمیں کی جائے۔ضابطے کے مطابق مشترکہ ہائی کورٹ کی پرنسپل نشست اسی مقام پر برقرار رہے گی جہاں اس ضابطے کے نفاذ سے قبل جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کی پرنسپل نشست واقع تھی۔
واضح رہے کہ آئینِ ہند کے آرٹیکل 240کے تحت صدرِ ہند کو ان یونین ٹیریٹریز کے لیے ضوابط وضع کرنے کا اختیار حاصل ہے جہاں قانون ساز اسمبلی موجود نہیں ہوتی۔ صدر کی جانب سے نافذ کیے جانے والے ایسے ضوابط کو قانون کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور وہ پارلیمنٹ کے ایکٹ کے مساوی نافذ العمل ہوتے ہیں، جبکہ متعلقہ یونین ٹیریٹری میں ان کی پابندی لازم ہوتی ہے۔