کٹھوعہ/جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے پہاڑی علاقے بنی میں اخروٹ کے درختوں سے اخروٹ اتارنے کا سیزن جوبن پر ہے، جہاں کسان اور ان کے اہل خانہ روایتی باغات سے پکے ہوئے اخروٹ جمع کرنے میں مصروف ہیں۔قدرتی طریقوں سے کاشت کیے جانے والے ان اخروٹوں کو مارکیٹ میں فروخت کرنے سے قبل اچھی طرح صاف کیا جاتا ہے اور تقریباً پانچ سے چھ دن تک دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے۔ مقامی کسانوں کے مطابق اخروٹ کی کاشت محض ایک زرعی سرگرمی نہیں بلکہ ان کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ اور پورے سال کی محنت کا ثمر بھی ہے۔
طویل عرصے سے باغبانی سے وابستہ مدن لال، جن کے پاس تقریباً 100 اخروٹ کے درخت ہیں، زیادہ تر ہمدان اور سلیمان اقسام کے درختوں سے سالانہ تقریباً 50 ہزار اخروٹ حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تقریباً 30 برس سے اخروٹ کی کاشت ان کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔
مدن لال نے کہا کہ جب بھی وزیرِ اعظم نریندر مودی کسانوں اور باغبانی کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو انہیں بہت حوصلہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’من کی بات‘پروگرام کے ذریعے وزیرِ اعظم کی جانب سے کسانوں اور باغبانی کے بارے میں دی جانے والی حوصلہ افزائی نے انہیں مزید آگے بڑھنے کا جذبہ دیا ہے۔
ایک اور کاشتکار عادل نے کہا کہ انہیں ہر سال اس موسم کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ ان کے مطابق جب درختوں پر اخروٹ پک جاتے ہیں تو اتارنے کا عمل شروع کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اخروٹ جمع کرنے کے بعد انہیں اچھی طرح صاف کیا جاتا ہے اور تقریباً پانچ سے چھ دن تک دھوپ میں خشک کرنے کے بعد بازار میں فروخت کیا جاتا ہے۔عادل نے اخروٹ کی کاشت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پورے سال کی محنت کا پھل اور زمین کے ساتھ ان کے گہرے تعلق کی عکاسی ہے۔
ضلع باغبانی افسر محمد شکیل کے مطابق کٹھوعہ کے بنی علاقے میں تقریباً 3,000 خاندان اخروٹ کی پیداوار پر بڑی حد تک اپنے روزگار کے لیے انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں ایک اخروٹ تقریباً 3روپےمیں فروخت ہوتا ہے، تاہم ایک پودےکو مکمل طور پر بالغ ہوکر پھل دینے کے قابل ہونے میں خاصا وقت لگتا ہے۔
محمد شکیل کے مطابق جب اخروٹ کا درخت مکمل پیداوار دینے لگتا ہے تو وہ ایک سیزن میں تقریباً 15 ہزار سے 20 ہزار روپے تک آمدنی فراہم کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنی اور گردونواح کے علاقوں میں اخروٹ کی کاشت کے وسیع امکانات موجود ہیں اور محکمہ باغبانی کسانوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ اس شعبے کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔محکمہ باغبانی گزشتہ دو برس سے ’چینڈلر (Chandler)‘قسم کے اخروٹ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ محمد شکیل کے مطابق یہ اعلیٰ معیار کی قسم ہے اور علاقے کے کسانوں کے لیے اس کے مستقبل میں بہتر امکانات موجود ہیں۔