ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

’بیرون ملک دانشمندانہ باتیں، ملک میں خاموشی‘، موہن بھاگوت کے اتحاد سے متعلق بیان پر کپل سبل کا سخت ردعمل

راجیہ سبھا کے رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے اتوار کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے امریکہ میں دیے گئے بیان پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ بھاگوت نے کہا تھا کہ ’’تنوع میں اتحاد ہندوستان کے ڈی این اے میں ہے۔‘‘ کپل سبل نے کہا کہ ’’صرف الفاظ اہمیت نہیں رکھتے بلکہ کام بھی نظر آنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے بھاگوت کے تبصرے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’بیرون ملک دانشمندانہ باتیں‘‘ اور ’’ملک میں خاموشی‘‘ کا معاملہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں :

کپل سبل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’نیویارک میں بھاگوت: تنوع ہماری فطری یکجہتی کی شان ہے۔ اس کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ بیرون ملک دانشمدانہ باتیں، ملک میں خاموشی۔ الفاظ اہمیت نہیں رکھتے، عمل بولنا چاہیے!‘‘ سبل کا یہ تبصرہ آر ایس ایس سربراہ بھاگوت کے اس بیان کے بعد آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’تنوع میں اتحاد ہندوستان کے ڈی این اے میں ہے اور اسے منایا، اس کا احترام اور اسے قبول کیا جانا چاہیے۔‘‘

واضح رہے کہ موہن بھاگوت نے ہفتے کے روز نیویارک کے معروف میڈیسن اسکوائر گارڈن میں واقع انفوسس تھیٹر میں منعقدہ ایک بڑے پروگرام سے خطاب کیا تھا۔ اس میں ہندوستانی نژاد امریکی برادری کے 6000 سے زائد اراکین اور مختلف مذاہب کے رہنما شامل ہوئے۔ یہ پروگرام امریکن ہندوز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ (اے ایچ ای اے ڈی) فورم کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’جب ہم امریکہ، یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ کہتے ہیں تو ایک لفظ پر اکثر بحث ہوتی ہے اور وہ ہے تکثیریت۔ جب ہم ہندوستان کہتے ہیں تو ایک اور جملے پر بحث ہوتی ہے، تنوع میں اتحاد۔‘‘ ان کے مطابق ہندوستان کے لیے اتحاد اور تنوع دونوں اس کے ڈی این اے میں شامل ہیں۔ انہوں نے سوامی وویکانند کے پیغام کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر قوم کا ایک مشن ہوتا ہے جسے اسے پورا کرنا ہوتا ہے۔

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ہندوستان کو کون سا مقصد سونپا گیا ہے؟ ہندوستان اس تنوع میں اتحاد کو سمجھنے اور وقتاً فوقتاً دنیا کو اس کا احساس کرانے کے لیے ہے۔ ہم ایک ہیں اور اسی تنوع کی وجہ سے اس اتحاد کی خوبصورتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’تنوع کا جشن منایا جانا چاہیے، اس کا احترام اور اسے قبول کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی ہمیں اتحاد کے اس احساس کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ یہ ایک بہت حقیقی احساس ہے۔‘‘

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں