English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ابھی نندن کو فوری واپس کیوں بھیجا گیا تھا؟

القمر

پاکستان میں قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران الزام عائد کیا ہے کہ گذشتہ سال بھارتی طیارہ گرائے جانے کے بعد گرفتار ہونے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک اجلاس میں کہا کہ خدا کے واسطے ابھی نندن کو جانے دیں کیونکہ بھارت رات نو بجے حملہ کر دے گا۔

اس الزام کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم نے انٹیلی جنس معلومات پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا تھا۔ انٹیلی جنس معلومات میں ابھی نندن کا ذکر نہیں تھا۔ ابھی نندن کے معاملے کو بلاوجہ متنازع بنانےکی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومت نے گھٹنے ٹیک کر ابھی نندن کو واپس بھیجنا تھا، ایاز صادق

بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں معمول کی گرما گرمی دیکھنے میں آئی اور حکومت و اپوزیشن نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے۔

اس دوران مراد سعید نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بھارتی مبینہ جاسوس کلبھوشن جادیو کا ساتھی قرار دیا۔

اس معاملہ پر ایاز صادق نے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن جادیو کے لیے آرڈیننس ہم نہیں لائے بلکہ موجودہ حکومت لائی ہے۔

ابھی نندن کے معاملے پر ایاز صادق نے کہا کہ 27 فروری کے واقعہ کے بعد ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پارلیمانی رہنما شریک تھے۔ اس اہم اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نہیں آئے، لیکن آرمی چیف اس اجلاس میں شریک تھے۔

ایاز صادق نے کہا کہ اس اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی موجود تھے۔ ‘ان کے پیر کانپ رہے تھے اور ماتھے پر پسینہ تھا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے ابھی نندن کو جانے دیں کیونکہ بھارت رات نو بجے حملہ کر دے گا’۔

ایاز صادق نے مزید کہا کہ ‘بھارت نے کوئی حملہ نہیں کرنا تھا۔ کچھ نہیں ہونا تھا۔ صرف گھٹنے ٹیک کر ابھی نندن کو واپس بھیجنا تھا جو انہوں نے کیا۔ یہ ایسی باتیں نہ کیا کریں جن کی وجہ سے ہم بھی یہ باتیں بتانے پر مجبور ہو جائیں۔ کچھ ایسی بات کیا کریں جس سے اس ایوان میں قانون سازی ہو سکے’۔

ہمیں کہا گیا کہ ابھی نندن کی رہائی سے ٹینشن کم ہوگی، خواجہ آصف

سابق اسپیکر کے اس بیان کے بعد خواجہ آصف نے بھی تقریر کی اور کہا کہ ابھی نندن کے معاملے پر ہمیں کہا گیا کہ ‘اس کی رہائی سے بھارت کے ساتھ ٹینشن کم ہو گی’۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ‘اس سرمایہ کاری سے آپ کو حاصل کیا ہوا۔ ابھی نندن کی رہائی کے منفی اثرات آئے۔ آپ سچ کیوں نہیں بولتے۔ آپ نے مودی کے جیتنے کی دعا کی، وزیراعظم خود ہاتھ اٹھا کر مودی کے لئے دعا گو ہوئے کہ اس کے آنے سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا’۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ‘بھارت اور مودی کو خوش کرنے کا نتیجہ سقوط سری نگر نکلا۔ اسلام آباد کے سیرینا چوک اور ڈی چوک میں بینرز لگا کر فرض ادا کر دیا گیا۔ کشمیریوں کے ساتھ رنگ بازی ہو رہی ہے۔ تاریخ ان حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی’۔

ابھی نندن کے معاملے کو متنازع بنانےکی کوشش کی جارہی ہے، شاہ محمود

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی جانب سے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان پر کہا کہ ‘ایاز صادق سے ایسی بات کی توقع نہیں کرتا۔ ایاز صادق نے جو مؤقف بیان کیا وہ حقیقت کے برعکس ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے انٹیلی جنس معلومات پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا تھا۔ لیکن انٹیلی جنس معلومات میں ابھی نندن کا ذکر نہیں تھا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘سیاسی مقاصد کے لیے ایسی غیر ذمے دارانہ گفتگو کی جا رہی ہے۔ ذمہ دار لوگ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر رہے ہیں جس پر مجھے حیرانی ہے’۔

کلبھوشن جادیو معاملے پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آئی سی جے کا فیصلہ پڑھ لے اور پاکستان کا مؤقف بھی پڑھ لیا جائے۔ یہ لوگ کلبھوشن اور ابھی نندن کے معاملے پر قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔

شاہ محمود نے الزام عائد کیا کہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو دھکیلنے والا کون تھا؟ یہ نون لیگ کا دیا ہوا تحفہ ہے، ہم بھارت کو ایسا موقع نہیں دینا چاہتے کہ وہ پاکستان کو دوبارہ آئی سی جے میں لے جائے۔

کشمیر کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پاکستانی کشمیر پر سودے بازی نہیں کر سکتا۔ ہم قوم کو کشمیر پر یکجا کرتے ہیں اور یہ بھارت کا بیانیہ بننا شروع کر دیتے ہیں۔،یہ ایوان میں آ کر معاملات میں ابہام پیدا کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کے لوگ کنفیوژن میں ایسی گفتگو کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی نندن کے معاملے کو بلاوجہ متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بدقسمتی سے انھوں نے سب چیزوں کو سیاست کی نذر کر دیا ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے۔

27 فروری 2019 کو کیا ہوا تھا؟؟

27 فروری 2019 کو پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق پاکستانی فضائیہ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی فورسز کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا تاہم بھارت صرف ایک جہاز گرنے کی تصدیق کرتا ہے۔

اس روز کے واقعات پر پاکستانی فوج کے ترجمان نے بتایا تھا کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دونوں طیاروں کو مار گرایا، جس میں سے ایک کا ملبہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جب کہ دوسرے کا ملبہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گرا تھا۔

ترجمان نے کہا تھا کہ بھارتی طیاروں کو مار گرانے کے ساتھ ساتھ ایک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو بھی گرفتار کیا گیا۔

تاہم یکم مارچ کو گرفتار کیے گئے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو تمام کاغذی کارروائی کے بعد واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ابھی نندن کی رہائی سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اعلان کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایاز صادق کا بیان سامنے آنے کے بعد مختلف سیاسی رہنماؤں کی طرف سے اس بارے میں بیانات بھی آنے لگے۔

مسلم لیگ(ن) کی مریم نواز نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں شاہ محمود قریشی پر تنقید کی اور کہا کہ ہر کوئی نواز شریف جیسا بہادر نہیں ہوتا جو بھارت کے پانچ دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کر کے منہ توڑ جواب دے۔

ایاز صادق کے ان جملوں پر انہیں پی ٹی آئی کے سپورٹرز کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

مختلف اکاؤنٹس پر بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے سکرین شاٹس شیئر کیے جا رہے ہیں جن میں ایاز صادق کے بیان کو نمایاں کر کے دکھایا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے