ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹرمپ کی بنائی پالسیسوں میں تبدیلی پر امریکا سعودی عرب رابطہ

 

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی حکومت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس ضمن میں سعودی عرب سے متعلق بھی کئی پالیسیاں تبدیل کی جارہی ہیں۔ اس تناظر میں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان السعود سے ہفتے کے روز ٹیلی فون رابطہ کیا ہے۔ فیصل بن فرحان نے انتھونی بلنکن کو مبارک باد دی اور دونوں ممالک کے روایتی قریبی تعلقات کو سراہا۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کہ امریکا یمن میں سعودی عسکری مہم کی حمایت ترک کر چکا ہے اور حوثی باغیوں کو بھی دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ امریکی جو بائیڈن یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ریاض کو اسلحہ کی فروخت روک دی جائے گی۔ اس تناظر میں یہ رابطہ کاری اہم تھی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے بھوک و افلاس سے شدید متاثر عرب ملک یمن میں حوثی باغیوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے 19 جنوری کو اپنا عہدہ چھوڑنے سے صرف ایک دن قبل ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام پر اقوامِ متحدہ کے حکام نے کہا تھا کہ حوثی باغیوں کو دہشت گرد قرار دینے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو بھوک و افلاس سے متاثر یمن میں امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں اور یہ ملک بڑے پیمانے پر قحط میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے عہدے دار نے جمعہ کے روز ایوان نمایندگان کے ارکان کو مطلع کیے جانے کے بعد اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے اس فیصلے کی تصدیق صدر جوبائیڈن کے اس اعلان کے بعد کی گئی، جس میں انہوں نے سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں 5 برس سے جاری جنگ کی حمایت ختم کرنے کا کہا تھا۔ حکام کے مطابق اس فیصلے سے صدر بائیڈن کی حوثی باغیوں سے متعلق موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، خاص طو پر جنہوں نے شہریوں کو نشانہ بنایا اور امریکیوں کو اغوا کیا، ان سے متعلق موقف تبدیل نہیں ہوگا۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما کی انتظامیہ نے 2015ء میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی بڑے پیمانے پر جنگی کارروائی کی حمایت تھی۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں