حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) بلدیہ اعلی اسٹاف یونین سی بی اے حیدرآباد کی جانب سے ہندو ملازمین کو دیوالی کی تنخواہیں ادا نہ کرنے کے خلاف یونین کے صدر غلام محمد قریشی، جنرل سیکرٹری محمد اکرم راجپوت اور سینئر نائب صدر سید اسماعیل شاہ کی قیادت میں شہباز بلڈنگ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں بلدیہ اعلیٰ حیدر آباد کے ملازمین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔مظاہرین سیکرٹری بلدیات، سیکرٹری فنانس اور ایڈمنسٹریٹر بلدیہ حیدرآباد کے خلاف شدید نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس موقع پر جنرل سیکرٹری اکرم راجپوت نے کہا کہ 4 نومبر 2021 ء کو ہندوئوں کا تہوار دیوالی ہے لیکن بلدیہ اعلی حیدر آباد کے غریب ہندو ملازمین کو اب تک تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں ہیں جبکہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ہندو ملازمین کو دیوالی کی تنخواہ فوری ادا کر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سندھ حکومت کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذریعے بینک اکاؤنٹ منجمد کرانے تھے تو پھر یہ اعلان سیاسی دکان چمکانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ ملازم کا بنیادی حق ہے اور ہر صورت میں ملازم کو تنخواہ ادا کرنی ہے ۔ بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر قاسم آباد ،لطیف آباد اور میونسپل کمشنر نے پہنچ کر یونین رہنمائوں سے مذاکرات کیے اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ ہر صورت میں بلدیہ کے ملازمین کو تنخواہ ادا کر دی جائے گی جس پر یونین رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر دیوالی کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی تو پھر آج 04 نومبر کو بلدیہ اعلی حیدر آباد کے ملازمین کام چھوڑ ہڑتال کریں گے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو بھی خبردار کیا کہ اگر سندھ کے بلدیاتی ملازمین کی تنخواہیں ٹریژری سے ادائیگی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تو پھر سندھ کے تمام بلدیاتی اداروں میں 29نومبر کو تالا بندی کی جائے گی۔