اسلام آباد(آن لائن)حکومت کو ہٹانے سے متعلق پی ڈی ایم مزید تقسیم ہونے لگی ہے ۔ن لیگ بھی پیپلزپارٹی کے نقش قدم پرآگئی۔ن لیگ نے موقف اختیا رکیا ہے کہ دسمبر میں تحریک چلانے سے سردی اور گنے کی کٹائی کے باعث عوام کم سڑکوں پر آئیں گے ،فروری تک مزید مہنگائی ہو گی اور عوام خود بخود سڑکوں پر نکلیں گے،2 بڑی جماعتوں کے نقظہ نظر سے مولانا فضل الرحمن ایک بارپھر دلبرداشتہ ہو گئے ۔انتہائی معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے ایک بار پر متفقہ رائے دی ہے کہ حکومت کو گرانے کی نہیں معمولی دھکا دینے کی ضرورت فروری کے بعد پیش آئے گی ،مہنگائی کا جن بوتل سے نکل چکا ہے اوروہ حکومت کے کنٹرول کرنے کے بس میں نہیں ہے۔علاوہ ازیں لانگ مارچ کے معاملے پر ن لیگ کے واضح جواب نہ دینے پر مولانا فضل الرحمان برہم ہوگئے جبکہ لانگ مارچ دسمبر میں کرنے پر ن لیگ کی پراسرار خاموشی پر شرکاء بھی حیران تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمن نے موقف اختیار کیا کہ پہلے کہا گیا کہ لانگ مارچ پنجاب سے شروع کریں اور اب آپ حتمی تاریخ نہیں دے رہے جس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ لاہور کے جلسے کے بعد لانگ مارچ بارے حتمی جواب دیںگے،لاہور کا جلسہ نومبر کے آخری دنوں میں ہوگا ۔ مولانا فضل الرحمن اپوزیشن لیڈر کے جواب پر ناراض ہو گئے اورلانگ مارچ کا معاملہ 11نومبر کو سربراہی اجلاس میں لانے کا اعلان کر دیا ۔ سربراہ پی ڈی ایم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی ،اب سب جماعتیں اپنا واضح موقف رکھیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی واضح ہدایت کے باوجود شاہد خاقان عباسی کے پریس کانفرنس نہ کرنے پر بھی ناراض تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ میں پی ڈی ایم کا سربراہ ہوں شاہد خاقان عباسی کو پریس کانفرنس کرنا چاہیے تھی لیکن ن لیگ نے شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کے بجائے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا ۔