ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان ڈائری

سانحہ آرمی پبلک سکول ۲۰۱۴ کوئی نہیں بھول سکتا۔اس وقت سپریم کورٹ میں والدین اس حوالے سے استدعا لے کر گئے ہوئے ہیں۔ انکا مطالبہ ہے مکمل تحقیقات کرکے تمام ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ سولہ دسمبر ۲۰۱۴ کو یاد کریں تو اس دن کی ہولناکی اب بھی ویسے ہی دل و دماغ پر نقش ہے جیسے کل کی بات ہو۔بچے اور استاتذہ سکول گیے اور واپس نا لوٹ سکے۔ پاکستانیوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا ۔ پریڈ لین ، میریٹ بلاسٹ ، مناواں میں پولیس پر حملہ ، بلوچستان میں حملے ، صٖفورا گوٹھ حملہ کتنے دل خراش سانحے ہم وطنوں پر گزر گئے اور ہم نے بہت بھاری قیمت چکائی۔

میں نے اس حوالے سے کتاب لکھی شہدا کے لواحقین کے انٹرویو کئے عینی شاہدین نے جو کچھ بتایا وہ سن کر انسان کا دل پارہ پارہ ہوجاتا ہے۔ جب بھی اس دن کو یاد کرتی ہوں۔

تمام زخم ہرے ہوجاتے ہیں اس دن پشاور میں بہت ٹھنڈ تھی کچھ بچوں نے ضد کی آج سکول نہیں جاتے لیکن ماں باپ نے پیار سے کہا ابھی چند تک تو سردیوں کی تعطیلات شروع  ہوجاییں گی تو یوں چھٹی کرنا مناسب نہیں۔بہت سے بچوں کو اسکول جانے کی اس لیے بھی جلدی تھی کہ امتحانات کے بعد پرچے چیک ہورہے تھے اور آج نمبر بتائے جانے تھے۔ خواتین استاتذہ بھی گھر اور بچوں کا کام ختم کرکے سکول طرف گامزن تھیں۔ مرد اساتذہ اور کالج کا دیگر اسٹاف بھی روٹین کی طرح آرمی پبلک سکول و کالج ورسک روڈ پہنچے۔ دن شروع ہوا اورسب درس و تدریس میں مشغول تھے کہ عینی شاہدین کے مطابق نو سے دس بجے کے درمیان دہشتگردعقبی دیوار پر سیڑھی لگا کر سکول میں داخل ہوئے۔

دہشت گردوں نے پہلے اسٹاف رومز ، کمپیوٹر لیب اور پھر ہال پر حملہ کردیا۔ان کے حملے کا میں ٹارگٹ ہائی سکول کے طالب علم اور اساتذہ تھا۔اس سے پہلے بھی آرمی اور دیگر دفاعی اداروں پر حملے ہوچکے تھے یہ حملہ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھا جس کا مقصد مسلح افواج  کے خاندانوں کو نقصان پہنچانا تھا لیکن یہاں پر یہ بات واضح رہے کہ اس وقت سکول میں سویلین خاندانوں کے بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی کیونکہ کوٹہ کے تحت آرمی پبلک سکولز میں صرف فوجیوں کے بچے نہیں شہریوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔یہ حملہ بیک وقت  پاکستان کی مسلح افواج اور سویلین شہریوں پربھی حملہ تھا۔

 جس وقت دہشتگرد سکول میں داخل ہوئے ہال میں نویں اور دسویں جماعت کے طالب علم ابتدایی طبی امداد کی ٹرینگ مکمل کررہے تھے۔دہشتگردوں نے ہال میں استاتذہ اور آرمی میڈیکل کور کے نایک ندیم الرحمن انجم اور سپاہی نوید اقبال کو نشانہ کو بنایا گیا۔اس کے بعد ہال میں موجودطالب علموں کو پواینٹ بلینک پر نشانہ بنایا۔ا۔اس ہی دوران لاینس نایک محمد الطاف جو کہ اس دن ڈیوٹی پر بھی نہیں تھے انہوں نے اپنی طور پر سکول و کالج سے طالب وعلموں کا نکالنے کا کام شروع کیا اور نہتے گولیوں کا نشانہ بن گیے ۔دہشتگردوں نے ایڈمن بلاک پر بھی حملہ کیا اور وہاں پر دس ایڈمن اسٹاف جن میں کلرک ،لیب اسٹنٹ ، مالی ، نایب قاصد ،چوکیدار اور ڈرایورز شامل تھے دہشتگردوں کی سفاکی کا نشانہ بنے۔

۔سکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت اس سانحے میں ۱۲۲ بچوں، ۱۲ استاتذہ،۱۰ کالج ایڈمن اسٹاف اور ۳ پاک فوج کے اہکار شہید ہویے۔ 

پندرہ منٹ کے اندر اندر سکول و کالج میں آرمی کا آپریشن شروع ہوگیا جس کے تحت کالج ، سکول اور جونیر سکول سے استاتذہ اور طالب علموں کو ریسکیو کرنے کا کام شروع ہوا۔پاک فوج نے تمام دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔یہ خبرپورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیئ ۔غازی بچوں اور غازی استاتذہ کو سکول سے  متصل پارک میں بھیجا گیا۔ ہسپتالوں کے سرد خانوں میں جگہ ختم ہوگی لیکن شہیدوں کے جسد خاکی آنا نا رکے۔۔زیادہ تر شہید طالب علموں کی عمریں پندرہ سے سترہ سال کے درمیان تھیں ۔

لواحقین نے بہت صبر اور ہمت دیکھائی ان کے حوصلے سے پاک فوج نے یہ عزم کیا کہ اس ملک سے دہشتگردی کو اکھاڑ دیں گے ۔ وہ ہی ہوا اس ہی جذبے کو لے کر پاک فوج نے دہشتگردوں کو نشانہ عبرت بنا ڈالا۔

۔سانحہ آرمی پبلک سکول کے لواحقین کی بہادری پوری دنیا نے ایک بار پھر دیکھی جب ۱۲ جنوری 2015 کو اسکول دوبارہ کھلا اور غازی بچے استاتذہ نے دوبارہ یہاں پر تعلیمی سلسلے کا آغاز کیا۔

سولہ دسمبرنے اس ملک کی تقدیر بدل دی جہاں ایک بہت بڑا غم دیا وہاں ایک عزم بھی دیا کہ معصوم بچوں اور انکے استاتذہ کے ناحق قتل کا بدلہ لینا ہےْ۔ ضرب عضب رد الفساد اور خیبر ون کے بعد ملک بھر میں ریاست کی رٹ قائم ہوگئ۔ آج ملک میں سکون ہے وزیرستان کے بچے سکولز جارہئے ہیں تو وہ اس قربانی کی مرہنون منت ہے جو بچوں نے سولہ دسمبر کو دیْ۔

اقوام کی زندگی میں سخت مراحل آتے ہیں۔یہاں ہم سب کا فرض بنتا ہے ہم لواحقین کا غم بانٹیں انہیں ہمیشہ یاد رکھیں ان کی دلجویی کریں انکی بات سنیں انکو انصاف دیں۔ شہدا،غازی اور ان کے لواحقین قومی ہیرو ہیں۔

اس وقت سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو سانحہ اے پی ایس کے لواحقین کا موقف سن کرکاروائی کا حکم دیا ہے اور سماعت چار ہفتوں کے لئے ملتوی کردی ہے۔والدین تحقیقات اور ملزمان کو کیفر کردار پہنچانے کے خواہاں ہیں۔ سانحہ آرمی پبلک سکول میں ملوث ۵ دہشتگردوں کو پھانسی دی جاچکی ہے جس میں مجید، سبیل ، حضرت علی اور عبدالسلام کو ۲ دسمبر ۲۰۱۵ کو پھانسی دی گئ اور ۲۴ مئی ۲۰۱۷ کو رضوان کو پھانسی دی گئ۔  ۔لواحقین کی داد رسی کے لئے ایک ارب ۵۴ کروڑچھالیس لاکھ چھ ہزار روپے کی گرانٹ دی گئ۔اس وقت  اس سانحے کے بعد جس طرح پاک آرمی نے لواحقین کی دلجوئی کی اس کی مثال نہیں ملتی اللہ لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں