ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی صدر اور بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی اچانک طبیعت خراب ہونے اورعلاج کے لیے انہیں بیرون ملک لے جانے کے مطالبے کے تعلق سے پارٹی ارکان پارلیمان کے استعفا دیے جانے کی دھمکی سے ملک کی سیاست کاپاراگرم ہو گیا ہے۔ بدعنوانی کے الزام میں جیل کی سزا کاٹنے والی خالدہ ضیا اس وقت بیمار ہیں اور دارالحکومت ڈھاکا کے ایور کیئر اسپتال میں داخل ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی شمیم اسکندر نے انہیں بہتر علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی اپیل کی ہے۔بی این پی کے جنرل سیکرٹری مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے کہا ہے کہ خالدہ ضیا موت کے دہانے پر ہیں۔ انہوں نے حکومت سے سابق وزیراعظم کو بہتر علاج کے لیے فوری طور پر بیرون ملک لے جانے کی اجازت دینے کی التجا کی ہے۔ اس کے علاوہ اتحاد میں شامل 20 جماعتوں نے بھی یہ درخواست کی ہے۔خالدہ ضیا کو بیرون ملک نہ بھیجنے کی صورت میں استعفا دینے کی دھمکی دینے والے ارکان اسمبلی نے کہا کہ بی این پی صدرکے ساتھ اگرکچھ ہوتا ہے تو اس کی ذمے داری حکومت کی ہوگی اوروہ پارلیمان سے باہر آجائیں گے۔ ارکان پارلیمان کا کہناہے کہ آرٹیکل 401 کے مطابق حکومت چاہے تو کسی کو رہا کرسکتی ہے یا اسے علاج کے لیے بیرون ملک بھیج سکتی ہے یا اس کی سزامعاف کی جاسکتی ہے۔بی این پی کے رکن پارلیمان سراج کے مطالبے کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون انیس الحق نے پارلیمان میں کہا کہ بی این پی جومطالبہ کررہی ہے وہ قانون کی کتابوں میں نہیں ہے۔ وہ مجھے جتنی چاہے گالی دے سکتے ہیں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں قانون پر عمل کروں گا۔ بی این پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی پُر امید ہیں کہ وزیر اعظم شیخ حسینہ عوامی لیگ کی میٹنگ میں اس پر غور کریں گی۔