ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پی سی بی کی مالی بے ضابطگیاں ، کیس ایف آئی اے کو بھیج دینگے، قائمہ کمیٹی

اسلام آباد (آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابط میں پاکستان کرکٹ بورڈ حکام کی بھاری بھرکم تنخواہوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں،سابق سی ای او وسیم خان26لاکھ، فزیو تھراپسٹ اینڈریو ڈیکان 21 لاکھ ، محمد ندیم خان 13 لاکھ،ثقلین مشتاق12 لاکھ ، سلمان نصیر 12 لاکھ ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں،کمیٹی نے اجلاس میں چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کی عدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی_بدھ کو چیئرمین نواب شیر وسیر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا گیا،کرکٹ بورڈ کے اعلی عہدیداران کی تنخواہوں کی تفصیلات بھی کمیٹی میں پیش کردی گئیں۔اجلاس میں کہا گیا کہ رمیز راجا کو شرکت کرنی چاہیے تھی جس پر پی سی بی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ چیئرمین وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کیساتھ ملاقات کے باعث کراچی میں ہیں اور پی ایس ایل کی تیاریوں کے حوالے سے ملاقات اہم تھی ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی عہدوں پر تعینات افسران کی تنخواہوں کی تفصیلات قائمہ کمیٹی کو پیش کی گئیں جس میں بتایا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سی ای او وسیم خان 26 لاکھ ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے تھے ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے فزیوتھراپسٹ اینڈریو ڈیکان کی تنخواہ 21 لاکھ ، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس محمد ندیم خان 13 لاکھ 15 ہزار روپے، ہیڈ آف انٹرنیشنل پلیئرز ڈویلپمنٹ ثقلین مشتاق 12 لاکھ 77 ہزار ، چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر 12 لاکھ 45 ہزار، چیف فنانشل آفیسر جاوید مرتضی 12لاکھ 40ہزار، چیف میڈیکل آفیسر نجیب اللہ سومرو 12 لاکھ 15 ہزار، چیئرمین سلیکشن کمیٹی محمد وسیم 10لاکھ روپے، سمیت متعدد شخصیات 5، 5 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہی ہے ۔کمیٹی چیئرمین نواب شیر وسیر نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ محترم ہے لیکن چیئرمین پی سی بی کو کمیٹی اجلاس میں ہونا چاہئیے تھا ۔ کمیٹی رکن اقبال محمد علی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آڈٹ کے حوالے سے معاملات حل نہیں ہو سکے ، اگر پی سی بی کے آڈٹ معاملات حل نہ ہوئے تو کیس ایف آئی اے کو بھیج دینگے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی نے کرکٹ نشریات کے حوالے سے نجی ٹی وی سے کنسورشیم کیا ہے ، یہ کیسا مذاق ہو رہا ہے ، پی ٹی وی حکومت پاکستان کا ادارہ ہے اور ایک پرائیویٹ ٹی وی کیساتھ کیسے کنسورشیم کیا جا سکتا ہے ؟ جس پر کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ کرکٹ کی نشریات نجی ٹی وی کو دینے پر تشویش ہے ۔اقبال محمد علی نے کہا کہ پی سی بی میں سب سے مہنگے سابق سی ای او تھے جو ملک میں کرکٹ کا بیڑہ غرق کرکے گئے ہیں ، بتایا جائے وسیم خان نے استعفی کیوں دیا جبکہ وقار یونس اور مصباح الحق بھی کنٹریکٹ پوراکیے بغیر چلے گئے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں