
دیر/لاہور(نمائندگان جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اقتدار کا سورج مایوسی اور بے بسی کے ساتھ غروب ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے زوال کا آغاز ہوگیا۔ تبدیلی جہاں سے لائی گئی وہیں سے واپس جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا بلدیاتی الیکشن کے اگلے مرحلے میں پی ٹی آئی کا صوبے سے مکمل صفایا ہوجائے گا۔ حکومت کے نامہ اعمال میں ناکامیوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ ڈالروں کے عوض ملکی خودمختاری آئی ایم ایف کو سونپ دی گئی۔ سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن کی نورا کشتی عوام کے سامنے بے نقاب ہو گئی۔ جنوری میں مہنگائی 13 فیصد رہی، ادارہ شماریات کے مطابق جولائی سے جنوری تک اوسطاً مہنگائی ساڑھے 10 فیصد رہی۔ پی ٹی آئی کی حکومت ملکی تاریخ کی واحد حکومت ہے جس کے دور میں مہنگائی کی شرح ڈبل ڈیجٹ سے نیچے نہیں آئی۔ وزیراعظم گھبرانا نہیں کی گردان چھوڑیں اور جانے کی تیاری کریں۔ عوام نے سابق اور موجودہ حکمران پارٹیوں کو پوری طرح آزما لیا۔ حکمران طبقہ قوم کو مزید دھوکا اور فریب نہیں دے سکتا۔ کشمیر کو بیچنے اور ملکی سا لمیت آئی ایم ایف کے ہاتھوں فروخت کرنے والوں کو بھاگنے نہیں دیں گے۔ عوام حکمرانوں کا الیکشن میں احتساب کریں گے۔ استعمار کے تابعداروں نے قوم کو بے آبرو کیا، ایٹمی اسلامی پاکستان امریکا کے وفاداروں کو نہیں سونپا جاسکتا۔ اہل اور ایماندار قیادت ہی ملک بچائے گی۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہے۔ اقتدار میں آکر قانون کی بالادستی قائم کریں گے اور غیرجانبدار کڑے احتساب کا نظام قائم کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چکدرہ دیرپائن میں شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے سابق رہنما حاجی امیر نوشاد خان نے سیکڑوں کارکنوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ امیر جماعت نے سیاسی رہنماؤں اور ورکرز کو جماعت میں شمولیت پر مبارکبا دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی طاقت سے اقتدار میں آکر ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کریں گے اور اسے قرآن وسنت کا گہوارہ بنائیں گے۔ بعدازاں امیر جماعت نے دیربالا میں مدرسہ تفہیم الاسلام میں تقریب تکمیل بخاری سے بھی خطاب کیا۔سراج الحق نے کہا کہ ملک کو سب سے بڑھ کر جس چیز کی ضرورت ہے وہ اسلامی انقلاب ہے۔ عوام کی اکثریت ملک میں اسلامی نظام چاہتی ہے۔ اسلام ہی ناصرف پاکستان بلکہ انسانیت کے مسائل کا حل ہے۔ بدقسمتی سے 7 دہائیوں سے ملک میں اسلامی نظام رائج نہیں ہوسکا۔ 73 کے آئین میں پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا مکمل ماڈل موجود ہے، مگر ہمارے حکمرانوں نے آئین سے روگردانی کی۔ اس ملک کو آزاد کرانے والوں سے بے وفائی کی گئی اور جان بوجھ کر ملک کو استعمار کی آماجگاہ بنایا گیا۔ایک ہی قبیل کے لوگ پارٹیاں بدل بدل کر ملک پر مسلط رہے۔ مارشل لاز اور نام نہاد جمہوری ادوار میں ملکی سا لمیت کا سودا کیا گیا۔ آج قوم 50 ہزار ارب روپے کی مقروض ہے۔ حکمرانوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ یہ قرض کہاں خرچ کیا۔ ملکی بجٹ کا 50 فیصد قرض اور سود کی ادائیگی، ایک بڑا حصہ دفاعی بجٹ اور ترقیاتی کاموں کے لیے صرف ساڑھے 6 سو ارب بچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ معیشت نے انسانیت کو غلام بنایا ہوا ہے۔ ملک آئی ایم ایف کا اصطبل بن چکا ہے۔ حکومت اور نام نہاد بڑی اپوزیشن نے مل کر غلامی کی آخری دستاویز پر ٹھپا لگایا۔ انہوں نے کہا کہ قوم سب سے جواب لے گی۔سراج الحق نے کہا کہ حکومت گوادر دھرنے کے رہنما مولانا ہدایت الرحمن سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے۔ گوادر کے عوام کو دھوکا دیا گیا، تو حالات مزید خراب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ فرسودہ نظام کے خلاف ملک گیر دھرنے ہوں گے۔ عوام کے مسائل کے حل تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو کراچی اورگوادر سے لے کر لاہوراور چترال تک ہر جگہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔ قوم کو لٹیروں اور غاصبوں سے نجات دلائیں گے۔ کرپشن فری اسلامی پاکستان ہماری منزل ہے۔ ہمارا ماضی اور حال قوم کے سامنے ہے، عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ان شاء اللہ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالیں گے۔