English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تقریب تعریفی سرٹیفیکٹس اور گورننس کا بحران

القمر
سوشل میڈیا کے بعد اب وزیراعظم عمران کی طرف سے بہترین کارکردگی کی حامل وزیروں میں تعریفی اسناد کی تقسیم کو اپوزیشن کی طرف سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور حزب اختلاف کی جماعتیں اسے وزیراعظم عمران کی محض اشتہاری مہم سے تعبیر کر رہی ہیں۔ چھ ماہ قبل وزیراعظم کی کابینہ میں شامل تمام وزیروں نے عمران خان کے ساتھ ایک ’پرفارمنس ایگریمنٹ‘ پر دستخط کیے، جس کا مقصد یہ تھا کہ تمام وزیر اس بات پر راضی ہیں کہ ان کی وزارتوں کی کارکردگی کو اہداف کی بنیاد پر جانچا جائے اور اس اعتبار سے ان کی درجہ بندی بھی کی جائے۔ جب تمام وزرا نے اس معاہدے پر دستخط کر دیے تو وزیر اعظم نے اپنے معاون خصوصی شہزاد ارباب کو تمام وزارتوں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ اگر ان کی تیار کردہ وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ پر نظر دوڑائی جائے تو ایسی تصویر سامنے آتی ہے جیسے اس وقت ملک میں بہترین گورننس کا ماڈل قائم ہو چکا ہے اور ایک سال کے دوران تمام ہی وزارتوں کی کارکردگی مثالی رہی ہے۔
فواد چوہدری سخت محنت کے باوجود دس بہترین وزیروں میں جگہ نہیں بنا سکے جبکہ وزیر داخلہ شیخ رشید قوم کو دہشت گردی سے ڈرانے کے باوجود اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے وزیروں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔ وزیر اطلاعات میڈیا کنٹرول کرنے، مستقل بنیادوں پر عمران خان کی قصیدہ گوئی کا اہتمام کرنے اور ناقدانہ آوازوں کو کچلنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود اتنے ’نمبر‘ بھی حاصل نہیں کرسکے کہ وہ ٹاپ ٹین میں شامل ہو جاتے۔ اب وہ ’اگلی دفعہ انشاللہ‘ کی امید پر ساتھی وزیروں کو مبارک باد دے رہے ہیں۔
مراد سعید کے پہلے نمبر نے واضح کر دیا ہے کہ عمران حکومت کو کیسے جی دار وزیروں کی ضرورت ہے۔ یوں تو انہیں مواصلات کے شعبہ میں کارکردگی دکھانے پر ایوارڈ ملا ہے لیکن یہ خبر نہیں کہ اس نام سے موسوم وزارت نے ایسا کون سا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ مراد سعید سب وزیروں پر بازی لے گئے۔ البتہ ان کی ایک خوبی کا سب کو پتہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تنقید کے جواب میں مراد سعید بڑھ چڑھ کر وزیر اعظم کے ذاتی وکیل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر انہوں نے باقی سب کو چاروں شانے چت کیا ہے تو حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ان کے دیگر ساتھیوں کو بھی مراد سعید اور اسد عمر سے سبق سیکھنا چاہیے۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے مصداق جب تک خوشامد پسند حکمران موجود ہو، کاسہ لیسی والوں کے لئے امکانات کم نہیں ہوتے۔
وزارت منصوبہ بندی کے وزیر اسد عمر کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یہ وہی وزیر موصوف ہیں جن کی اپوزیشن میں رہتے ہوئے ایک تقریر مشہور ہوئی تھی کہ ن لیگ پٹرول کے فی لیٹر پر کتنا ٹیکس لے رہی ہے۔ اور جب انہیں وزیرخزانہ بنایا گیا تو ان کا بیان ہی تبدیل ہوگیا اور ان کی جانب سے بیان آیا کہ پٹرول کی قیمتوں کا تعلق براہ راست حکومت کے بجائے عالمی منڈی سے ہوتا ہے۔ جب کہ خود اپنی وزارت میں صرف 8 ماہ گزار کر کنارہ کرگئے۔ ان کے بعد حفیظ شیخ کو یہ قلمدان سونپا گیا، جو ماضی کی حکومتوں کو خزانہ خالی کرنے کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے دو سال گزار گئے، جب کہ وہ خود ماضی میں پیپلزپارٹی کی جانب سے اسی منصب پر 3 سال تک براجمان رہے۔ اور ان کے بعد اسی وزارت پر پیپلزپارٹی کے ہی ماضی کے 2 سال تک رہنے والے وزیرخزانہ شوکت ترین کو فرائض سونپ دیے گئے۔ جب کہ اسد عمر یہی منصوبہ بندی کرتے دکھائے دیے کہ کب اسکول بند کرنے ہیں اور کب کھولنے ہیں۔
تیسری وزارت سماجی تحفظ و تخفیفِ غربت کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر کی جانب، جنہوں نے اب تک تقاریب کے انعقاد اور وزیراعظم کی تعریفوں کے گلدستے سمیٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ انہوں نے اپنی وزارت کی جانب سے اتنی تقاریب کا انعقاد کیا ہے کہ اگر ان تقاریب پر لگنے والے پیسے جمع کرلیے جائیں تو شاید ایک نیا علاقہ تیار ہوجائے، جہاں ہر قسم کی سہولت بھی میسر ہو۔ جہاں تک رہ گئی ان کی وزارت کی بات تو احساس پروگرام میں شامل ہونے کےلیے میسیج کے ذریعے اندراج کرایا گیا، اور اس میسیج پر 7 روپے سے زائد روپے بٹورے گئے۔ اور کچھ دنوں کے بعد جب رجسٹریشن کروانے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہوگئی تو اس وزارت کو احساس ہوا کہ میسیج کے پیسے لیے جارہے ہیں تو انہوں نے میسیج مفت کردیا۔ مطلب 7 کروڑ روپے سے زائد عوام کی جیبوں سے نکالنے کے بعد انہی کے پیسے قرعہ فال نکلنے والے عوام کو واپس لوٹا دیے گئے۔
باقی وزارتوں کا بھی کم و بیش یہی حال رہا ہے۔ بہرحال عمران خان نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اچھا کام کرنے پر شاباش دینے کے علاوہ ناکامی پر ’سزا‘ کا تصور بھی پیش کیا ہے۔ وہ اس کے علاوہ وہ عام طور سے میرٹ کے سوال پر سیر ہاصل گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ اس تناظر میں وزیروں کو توصیفی پرچیاں بانٹنے سے پہلے عمران خان کو خود اپنے آپ کوکٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے تھا اور بتانا چاہیے تھا کہ ملک کے منتظم اعلیٰ کے طور پر ان کی اپنی کارکردگی کیسی رہی؟ اپوزیشن لیڈروں، کسی حد تک غیر جانبدار مبصروں یا عالمی جائزوں پر نگاہ ڈالیں تو حکومت اکثر شعبوں میں شدید ناکامی کا شکار ہے۔
عمران خان کایہ اعتراف کہ وہ نظام تبدیل نہیں کرسکے بلکہ نظام نے ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال رکھی ہیں، بجائے خود ان کے خلاف فرد جرم کی حیثیت رکھتاہے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والے وزیروں میں نمبر بانٹنے سے پہلے عمران خان خود اپنی گریڈنگ بھی کر لیتے تو شاید انہیں آج کی تقریب منعقد کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔
ہفتہ، 12 فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post تقریب تعریفی سرٹیفیکٹس اور گورننس کا بحران appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے