لاڑکانہ(نمائندہ جسارت) قنبر شہدادکوٹ کی تحصیل وارہ سے تعلق رکھنے والے لیڈی ہیلتھ ورکر نے بااثرافراد پر جنسی حراسانی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی ویڈیو وائرل کردی جس نے تحفظ کی اپیل کی ہے۔اس حوالے سے لیڈی ہیلتھ ورکرز ثمینہ کا کہنا ہے کہ میں غریب مسکین لیڈی ورکر اور ڈیوٹی کرکے اپنے والدین کی کفالت کرتی ہوں لیکن معاشرہ میری دشمن بنی ہوئی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ لالورائنک کا رہائشی بااثر دربان علی چانڈیو اپنے بھائیوں محمد پناہ، محمد علی اور بھتیجے محمد پنہل چانڈیو کے ہمراہ مجھے جنسی طور پر حراسان کرکے تنگ کرکے دھمکیاں دے رہے ہیں اور ٹارچر کرکے میری زندگی اجیرن بنادی ہے جس کے باعث میں خودکشی پر مجبور ہوگئی ہوں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں اتنی وحشت پھیلی ہوئی ہے کہ کبھی نمرتا تو کبھی نوشین کو قتل کیا جاتا ہے لیکن میں تو زندہ ہوں، متاثر لیڈی ہیلتھ ورکر ثمینہ نے وزیراعظم ، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی لاڑکانہ سے اپیل کی ہے کہ جنسی حراسانی میں ملوث بااثرافراد کو گرفتار کرکے تحفظ فراہم کیا جائے۔