میونخ(مانیٹرنگ ڈیسک)یوکرین کے صدر نے کہا ہے کہملک کا دفاع کریں گے‘اشتعال انگیزی کا جواب نہیں دیںگے۔ بی بی سی اردو سروس کے مطابق ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مشرقی علاقوں میں روسی حمایت یافتہ باغیوں سے لڑائی میں شدت دیکھی گئی ہے تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مغربی رہنماؤں سمیت دنیا بھر کو پیغام دیا ہے کہ ان کا ملک روس کی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔واضح رہے کہ یوکرین کی فوج اور روس کے حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان3 دن سے جاری جھڑپوں میں یوکرین کے 2 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کو اس بات کا یقین ہے کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے والا ہے لیکن روس نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے روس پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ یوکرین کے مشرقی علاقوں میں بحران پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے باقاعدہ حملے کا جواز مل سکے۔ادھر جرمنی کے شہر میونخ میں سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کے دوران یوکرین کے صدر نے کہا کہ یوکرین کے لوگ اپنی زندگی جینا چاہتے ہیں اور اس وقت وہ خوف و ہراس کا شکار نہیں ہیں۔یوکرین کے صدر نے مغربی رہنمائوں پر الزام لگایا کہ وہ ماسکو کے ساتھ اپیزمنٹ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں یعنی وہ ماسکو کے جارحانہ رویے کے باوجود اس کے ساتھ نرم رویہ اپنائے ہوئے ہیں، اس امید میں کہ روس ان کے خدشات کے برعکس جارحیت روک دے گا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو تحفظ کی نئی یقین دہانیاں دی جائیں۔واضح رہے کہ یوکرین کے صدر کو امریکی حکام کی جانب سے تنبیہ کی گئی تھی کہ اس وقت ان کا ملک چھوڑنا خطرے سے خالی نہیں لیکن ان وارننگز کے باوجود انہوں نے میونخ کی سیکورٹی کانفرنس میں حصہ لیا۔یوکرین کے صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا گیا جب مبصرین کے مطابق مشرقی یوکرین میں حکومتی افواج اور باغیوں کو تقسیم کرنے والی سرحدی لائن پر حملوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔مبصرین کے مطابق صرف سینیچر کے دن ہی یوکرین سے علیحدہ ہو جانے والے ڈونیٹسک اور لوہانسک علاقوں میں 1400 دھماکے ہوئے۔
یوکرین