پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں جب کہ حکومت نے بھی اپوزیشن کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے کمر کس لی ہے۔
پاکستان کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق حکمراں جماعت نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلٰی کو یہ ٹاسک دیا ہے کہ وہ ناراض حکومتی اراکینِ اسمبلی کو منانے کے لیے متحرک ہو جائیں اور اُن کے تحفظات دُور کریں۔
حکومت نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ناراض اراکین کو منانے کا ٹاسک ایسے موقع پر دیا ہے جب لاہور میں موجود اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی اتحادی جماعتوں سے پھر رابطے شروع کر دیے ہیں۔
سیاسی بساط کے ماہر سمجھے جانے والے سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی لاہور کے بلاول ہاؤس میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور منگل کو قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف سے اُن کی ملاقات کے بعد بدھ کو وہ حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔
یہ دو ہفتوں کے دوران آصف علی زرداری کو مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں کے ساتھ دوسری ملاقات ہو گی، چند روز قبل آصف زرداری چوہدری شجاعت حسین کی عیادت کے لیے اُن کی رہائش گاہ پر گئے تھے۔
قومی اسمبلی میں نمبر گیم
آئینِ پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی کے 342 اراکین میں سے کوئی بھی رُکن اسمبلی اگر قائدِ ایوان کے انتخاب میں 172 اراکین کی حمایت حاصل کر لے تو وہ وزیرِ اعظم منتخب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پنجاب اسمبلی کے 371 کے ایوان میں قائدِ ایوان منتخب ہونے کے لیے 186 اراکینِ پنجاب اسمبلی کی حمایت ضروری ہے۔
قومی اسمبلی میں اگر نمبر گیم کی بات کریں تو حکمراں اتحاد کو 180 اراکینِ اسمبلی کی حمایت حاصل ہے جب کہ اپوزیشن جماعتوں کے 162 اراکینِ اسمبلی ہیں۔
تحریکِ انصاف کی مخلوط حکومت کو پی ٹی آئی کے 156 اراکینِ اسمبلی کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کے سات، مسلم لیگ (ق) کے پانچ، بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کے تین، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے ایک جب کہ دو آزاد اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں کے مجموعی اراکین کی بات کی جائے تو مسلم لیگ (ن) کے 84، پیپلزپارٹی کے 56، متحدہ مجلسِ عمل کے 15، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے چار، عوامی نیشنل پارٹی کا ایک جب کہ دو آزاد اراکینِ اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔
یوں اگر متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ ق ہی اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دے دیں تو حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو سکتی ہے۔
اگر قومی اسمبلی میں نمبر گیم کی بات کی جائے تو