ویب ڈیسک —
کرونا وائرس کی تیزی سے پھیلتی ہوئی اومیکرون قسم نے اس سوال کو نمایا ں کردیا ہے کہ کیا اومیکرون لوگوں میں بڑے پیمانے پر وائرس کے مرض کووڈ نائنٹین کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہورہا ہے۔
کسی ملک یا معاشرے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کسی مرض کے خلاف قوت مدافعت حاصل کرنے کو انگریزی میں ‘ہرڈ امیونیٹی’ کہتے ہیں۔
اس سے مراد یہ ہے کہ کسی جگہ پر اگر لوگوں کی بڑی تعداد کسی مرض کے خلاف محفوظ ہوجائے کہ لوگ جو پہلے اس مرض سے متاثر نہیں ہوئے یا انہوں نے اس سے بچاو کی ویکسین نہیں لگوائی، انہیں بھی اس بیماری سے خطرہ نہ رہے۔مثال کے طور پر خسرے کے خلاف ہرڈ امیونیٹی کا مطلب یہ ہے کہ کسی کمیونیٹی میں کم از کم 95 فیصد لوگ اس مرض کے خلاف قوت مدافعت رکھتے ہوں۔
لیکن کرونا وائرس کے معاملے میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک مختلف صورت حال ہے جس پر بڑے پیمانے پر امیونیٹی کا تصور لاگو نہیں ہوتا۔
واشنگٹن ڈی سی کے مضافات میں قائم یونیورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ سے منسلک ڈاکٹر ڈان مملٹن نے اس بارے میں خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ،”ہرڈ امیونٹی ایک مبہم سا تصور ہے جس کا کرونا وائرس پراطلاق نہیں ہوتا۔”
No media source currently available
ماہرین کے مطابق کروناوائرس کے خلاف بڑے پیمانے پر لوگوں میں قوت مدافعت پیدا ہونے کی امیدیں کئی وجوہات کی بنا پر دم توڑ چکی ہیں۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کووڈ نائنٹین سے بچاو کی ویکسین یا اس مرض سے لاحق لوگوں میں جو ردعمل کے طور پر جسم میں کووڈ نائنٹین کے خلاف اینٹی باڈیز بنتی ہیں وہ ایک محدود وقت تک موثر رہتی ہیں۔
اگرچہ ویکسین لگانے سے لوگ کووڈ نائنٹین کی مہلک صورت سے بچ جاتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اینٹی باڈیز کمزور پڑ جاتی ہیں اور یوں ویکسین اور حتی کہ بوسٹر لگانے کے باوجود لوگ کووڈ نائنٹین سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتے۔
اس سلسلے میں دوسرا بڑا مسئلہ ویکسین لگانے کی شرح کا ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف ہے۔
مثال کے طور پر کم آمدنی والے ممالک میں اب تک 5 فیصد سے بھی کم لوگوں کو ویکسین کی خوراکیں دی جا سکی ہیں جبکہ امیر ممالک میں لوگ ویکسین لگوانے میں ہچکہچاہٹ سے کام لیتے ہیں۔ علاوہ ازیں کئی ممالک میں بچوں کو ویکسین نہیں لگائی جاتی۔
No media source currently available
طبی ماہرین اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب تک وائرس پھیلتا رہے گا تب تک یہ تبدیل ہوتا رہے گا۔ یوں یہ وائرس زندہ رہے گا اور اس کی مختلف اقسام بنتی رہیں گی۔
اومیکرون بھی وائرس کی ان اقسام میں سے ایک ہے اور ایسی اقسام پہلے سے لوگوں میں کووڈ نائنٹین کے خلاف ویکسین یا وائرس سے متاثر ہونے کے نتیجے میں بننے والی حفاظتی قوت سے بچ نکلنے کی زیادہ صلاحیت حاصل کر سکتی ہیں۔
ڈاکٹر ملٹن کہتے ہیں کہ اب کمیونیٹیز اجتماعی قوت مدافعت کی بجائے اجتماعی مزاحمت کی جانب جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اور یہ ایسے حالات ہوں گے کہ جہاں لوگ اس وائرس سے متاثر تو ہوتے رہیں گے لیکن ان کے پاس اس قدر قوت مدافعت ہوگی کہ مستقبل میں معاشرے کو اس مرض کے باعث کاروبار حیات کو درہم برہم کرنے جیسے موجودہ بحرانی حالات کا سامانا نہیں کرنا پڑے گا۔
بہت سے سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کووڈ نائنٹین آخر کار فلو کی طرح کا ایک مرض بن جائے گا جو مخصوص موسموں میں پھوٹے گا لیکن یہ لوگوں کو اتنے بڑے پیمانے پر متاثر نہیں کرے گا جتنا کہ اس وقت کر رہا ہے۔
(خبر کا مواد اے پی سے لیا گیا ہے)