ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پشاور دھماکا: شہید ہونے والے پولیس اہلکار کی ایک دن پہلے بیٹی پیدا ہوئی تھی

پشاور کی مسجد میں خود کش دھماکے سے قبل فائرنگ سے شہید ہونیوالے پولیس اہلکار کے ہاں ایک رات قبل ہی بیٹی کی ولادت ہوئی تھی۔

پشاور پولیس کے ٹویٹر اکائونٹ کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ یہ وطن پر جان قربان کرنے والے دلیر پولیس جوان کانسٹیبل جمیل خان شہید کی دلخراش کہانی ہے۔

ٹویٹ میں لکھا گیا کہ بیٹی رات کو ہسپتال میں پیدا ہوئی، صبح فرائض کی ادائیگی کے لئے باپ ڈیوٹی پر گیا اور سیدھا جنت میں چلا گیا۔

خیال رہے کہ دہشتگرد حملے کی سی سی ٹی وی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے سے قبل گیٹ پر ڈیوٹی سرانجام دے رہے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔ حملہ آور کی فائرنگ کے بعد ایک پولیس اہلکار موقع پر ہی شہید جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا تھا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملا۔

خیال رہے کہ دہشتگردی کے اس افسوسناک واقعے میں اب تک نوجوانوں، بزرگوں اور بچوں سمیت 60 سے زائد نمازی شہید ہو چکے ہیں۔ واقعے کے بعد پشاور شہر کی فضا سوگوار ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم ملک دشمن عناصر کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں، انھیں چند ہی روز میں قانون کی گرفت میں لے آیا جائے گا۔

اپنے ویڈیو پیغام میں وزیر داخلہ نے کہا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو 2 سے 3 روز میں گرفتار کرلیا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سہراتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس اور تحقیقاتی ادارے ملزمان کی شناخت کرتے ہوئے ان کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں۔

دریں اثنا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز پشاور کے کوچہ رسالدار چوک میں واقعے شیعہ مسجد میں دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 62 تک جا پہنچی ہے، شدید زخمی ہونے والے مزید 5 افراد دوران علاج جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز 57 افراد کی میتیں جبکہ 37 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، واقعے میں مجموعی طور پر 194 افراد زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کل سے اب تک مزید 5 افراد دوران علاج جان کی بازی ہار گئے ہیں، جس کے بعد حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 62 ہوگئی ہے۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا مزید کہنا تھا کہ زیر علاج زخمیوں میں سے 5 کی حالت تشویش ناک ہے، جو آئی سی یو میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر زخمیوں میں سے ایک اور کو طبی امداد دے کر ڈسچارج کردیا گیا ہے۔ واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں کوہاٹ سے تعلق رکھنے 9 سالہ بچہ، 2 کزن اور ان کے چچا، دو ذاکرین مظہر علی اور مجاہد علی بھی شامل ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں