ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اجتماع جمع اجتماع ، نتیجہ صفر

تحریر: محمد امنان

مملکت خداد پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد سے آج دن تک کسی نہ کسی سیاسی ، معاشی اور بے حد اخلاقی بحران کا شکار رہی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے ملک کو اپنے اپنے انداز میں اپنے اپنے مفادات کی خاطر چلانے کی کوشش کی جس میں بری حد تک آمروں نے بھی حصہ ڈالا سیاسی اور عسکری ہم آہنگی کی کمی کے باعث ہم نے اپنے وجود کا حصہ کھو دیا دنیا اس حصے کو آج بنگلہ دیش کے نام سے جانتی ہے

بنگلہ دیش اور پاکستان میں معاشی ، سیاسی، تعلیمی اور جمہوری اقدار کا موازنہ کیا جائے تو آج بنگلہ دیش پاکستان سے بہت آگے نکل چکا ہے اور دن بدن ایک محنتی اور باشعور قوم کی صورت اقوام عالم میں اپنی پہچان بنا رہا ہے الگ پہچان تو انہوں نے ہم سے الگ ہوتے ہی بنا لی تھی یا یوں کہیے جب ہم نے انہیں الگ کیا وہ بطور قوم ترقی کے مشن پر تمام سیاسی اختلافات کے باوجود ایک ہو چکے تھے
آج پاکستان میں ماضی اور ہمیشہ کی طرح سیاسی، بحران اور کشیدگی پھر سے زوروں پر ہے جسکا سہرا بلا شبہ تمام سیاسی جماعتوں اور برسر اقتدار جماعت کے سر ہے کیونکہ ہم عقل سے پیدل اور جذباتی فیصلوں میں اپنی مثال آپ ہیں

سیاسی جماعتوں عوام اور دیگر حلقوں کی زبان ، ملک، رنگ ، نسل ، تہذیب اور آب و ہوا ایک ہونے کے باوجود ہماری سوچ، مفادات، وابستگیاں اور ملک کے تئیں ذمہ داریاں الجھی ہوئی اور الگ الگ ہیں ۔ جسکی واضح مثال اپوزیشن اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ مختلف ناموں اور ایک ہی مفاد کے عوامی مارچ، احتجاج ، تاریخی شو وغیرہ وغیرہ ہیں

عدم اعتماد کی تحریک کے بعد سے اب تک سیاسی افق پر اکھاڑ پچھاڑ ، مارا ماری اور طوفان کی سی کیفیت ہے جس میں وطن عزیز انتہائی تشویشناک انداز میں موجودہ وقت میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو بس تکے جا رہا ہے ، جناح کے خواب اور اقبال کے عطا کردہ شعور کو ہم کبھی کا دریا برد کر چکے جبھی تو آج ہر سیاسی پارٹی ، وزیر اعظم، اپوزیشن اور یہاں تک کے عام آدمی بھی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنائے بیٹھا ہے جیسے ان سب کے مفاد ملک کی سلامتی اور امن سے مقدم ہیں۔

موجودہ حکومت تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو اپوزیشن کے خلاف احتجاج یا اکٹھ کا اعلان کر چکی ہے جسکی درپردہ وجہ سبھی کو معلوم ہے اسکا نام اقتدار کا چھن جانا ہے دوسری جانب اپوزیشن کی تمام جماعتیں یک زبان و جاں ہو کر بس اس اقتدار کو حاصل کرنا چاہتی ہیں

ملکی معیشت اور دیگر معاملات جن میں سب سے اہم عام آدمی کے دگرگوں حالات ہیں کی کسی کو فکر نہیں ہاں محور سیاست اور مدعا سب کا یہی ہے کہ روایتی انداز میں ملک کے غریبوں کو خوشحال کرنے کا نعرہ مار کر اقتدار کے بیڑے پر سوار ہونے والے حکمران صرف سیاسی بیانات کی حد تک ہی غریبوں کی بات کرتے ہیں وگرنہ آج ملک میں میرٹ کا بول بالا ، تعلیم کی ترقی، کرپشن کا خاتمہ اور دیگر برائیوں کا کم از کم خاتمہ نہیں تو جملہ برائیوں پر کسی حد تک قابو پایا جا چکا ہوتا

اب حالات خدانخواستہ تصادم کی جانب گامزن ہیں اپوزیشن نے بھی حکومتی اعلان کے بعد ملک کی راجھدانی کے ڈی چوک کا ہی انتخاب کرتے ہوئے تئیس مارچ کے دن احتجاج یا اکٹھ کا اعکلان کر دیا ہے ، حکومت بھی اکٹھ کرے گی اور ظاہری سی بات ہے اگر تحریک عدم اعتماد کے دن جو جانے کب ہو گی اس دن اپوزیشن اور حکومت کے لوگ ایک ہی جگہ آمنے سامنے ہوں گے تو بیرونی قوتوں کو انہیں تشدد پہ ابھارنے میں چنداں مشکل نہیں ہو گی

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سیانی حکومت اور ڈیڑھ سیانی اپوزیشن اس ساری صورتحال سے آئینی و قانونی راستے پہ چل کے کسی کنارے لگائے گی یا ملک کو خدانخواستہ تصادم کی جانب لیجایا جائیگا یہ وقت طے کرے گا لیکن فی الحال اجتماع جمع اجتماع کا نتیجہ کچھ بھی نہیں ہے

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں