ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

محاذ آرائی کسی کے حق میں نہیں

سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان 100 فیصد مشکل میں ہیں جبکہ سارے اتحادیوں کا 100 فیصد رجحان اپوزیشن کی جانب ہے۔ ہم نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کسی ایک شخص کیخلاف ہوں تو ساری تلخیاں بھلا دیتے ہیں۔ اس وقت اتحادیوں کا مکمل جھکائو حزب اختلاف کی جانب ہے۔ اب یہ وزیراعظم عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا اعتماد بحال کریں۔ چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ اب نمائندے اور وفود بھیجنے کا وقت نکل چکا ہے، وزیراعظم عمران خان ذاتی طور پر اتحادیوں کے تحفظات دور کریں۔ انہوں نے کہا کہ جن کے پاس صرف ایک بھی ووٹ ہے، ان کے پاس جا رہے ہیں، یہی کام پہلے کر لیتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے اپوزیشن اور حکومت سے جلسے منسوخ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام ایسی سیاست سے سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اپوزیشن تو جلسوں کی سیاست کرتی ہی ہے، اب حکومت بھی مقابلے کرنے لگ گئی ہے، یہ اس کا کام نہیں ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے اپیل کی کہ ملکی مفاد میں جلسوں کو فوری طور پر منسوخی کیا جائے۔ سیاسی مقابلہ ملک میں سیاسی افراتفری اور بحران پیدا کرسکتا ہے،جس کا فائدہ پاکستان کے اندرونی وبیرونی دشمنوں کو ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ معاشی اور سیاسی حالات اس خطرناک محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ جو سیاسی منظر نامہ بن رہا ہے وہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں ہوگی۔ اس سے پہلے ہی تمام سیاسی جماعتیں کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گی۔27 مارچ کو جلسے کے اعلان کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ جلسہ کرنا ہمارا حق ہے۔ پی ٹی آئی کوئی متشدد جماعت نہیں اور نہ ہی ہمارے کوئی مدرسے ہیں جہاں سے ہم فضل الرحمان کی طرح بچوں کو اکھٹے کرکے لے آئیں گے۔فواد چودھری نے کہا کہ ہمارے لوگ تو مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم کوئی مذہبی شدت پسندوں کی جماعت نہیں ہیں جیسے کہ جے یو آئی ہے اور نہ ہی ہم نے بدمعاش اور ڈاکو پالے ہوئے ہیں جیسے کہ زرداری صاحب نے اور نہ ہی ہمارے پاس ن لیگ کی طرح غنڈے ہیں۔
اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے استعفے کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ناممکن ہے۔ اس کیلئے اپوزیشن کو ان تمام انتہائوں سے گزرنا پڑے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن ہمارے ساتھ بیٹھ کر یہ بات طے کرے کہ وہ الیکشن کیسے کروانا چاہتے ہیں۔ ہم ایک ایسے ماحول میں الیکشن کروانا چاہتے ہیں جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ ریفارمز کیلئے اپوزیشن اور حکومت کو مل بیٹھنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ہمارے ساتھ 179 ارکان کھڑے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آخری مرتبہ وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دیا تھا۔ دوسری جانب اپوزیشن کے پاس 145، 150 سے اوپر بندے نہیں ہونگے۔ اتحادیوں کی اپوزیشن کیساتھ ملاقاتیں صرف سیاست ہیں۔ تمام اتحادی حکومت اور عمران خان کیساتھ ہی رہیں گے۔
یہ کہے بغیر کہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں نمبر پورے کر لئے ہیں، عمران خان کے طرز عمل سے لگتا ہے وہ میچ ہار چکے ہیں لیکن اسے تسلیم کرنے کا حوصلہ جمع نہیں کر پا رہے۔ وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں نے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد جو ہیجانی کیفیت پیدا کی ہے، وہی ان کے خوف اور اعتراف شکست کی سب سے بڑی علامت ہے۔اب یہ بے معنی ہو چکا ہے کہ اسمبلی میں نمبروں کی گنتی کیسے پوری ہوتی ہے اور پلڑا کس طرف جھکتا ہے۔ عمران خان اگر عدم اعتماد سے بچ بھی گئے تو بھی وہ باقی ماندہ مدت میں ملک کے چیف ایگزیکٹو سے زیادہ پرائم منسٹر ہاؤس کے ’چوکیدار‘ سے زیادہ اہم نہیں رہیں گے۔
بدقسمتی سے یہ صورت حال عمران خان نے خود اپنی عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے پیدا کی ہے۔ تحریک انصاف کے جن ارکان اسمبلی کو وزیر اعظم کی کمزوری کا علم نہیں بھی تھا، اب وہ بھی سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ اس شخص کی قیادت میں ان کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا۔تحریک عدم اعتماد ایک سیاسی فیصلہ اور آئینی طریقہ ہے۔ اس پر قومی اسمبلی میں فیصلہ کروا کے آگے بڑھا جاسکتا تھا لیکن یہ تحریک پیش ہونے کے بعد عمران خان نے پر جوش عوامی مہم کا سلسلہ شروع کر کے یہ اعتراف کیا ہے کہ انہیں قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں رہی اور اب وہ عوام کی حمایت سے اس کمی کو پورا کریں گے۔ عمران خان ہمیشہ سیاست کو کرکٹ کی اصطلاحات میں بیان کرتے ہیں۔ اس حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے موقع پر اسلام آباد میں 10 لاکھ حامیوں کو جمع کرنے کا اعلان بالکل ایسے ہی ہے کہ ہارنے والی ٹیم کا کپتان تماشائیوں کو میدان میں آ کر میچ خراب کرنے کی دعوت دے۔
وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے کوئی مسئلہ ہوا تو ’تحریک عدم اعتماد کا معاملہ پیچھے رہ جائے گا‘ ۔ قومی اسمبلی میں اکثریت سے محروم ہونے کا اس سے واضح اشارہ اور کیا ہو سکتا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن سے پوچھا ہے کہ اگر ان کے 172 ارکان پورے ہیں تو وہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیوں کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال اپنے وزیر اعظم سے نہیں کیا کہ اگر انہیں اکثریت کی حمایت حاصل ہے تو وہ ڈی گراؤنڈ پر دس لاکھ حامی کیوں جمع کرنا چاہتے ہیں؟

بدھ، 16 مارچ 2022

شفقناا ردو
ur.shafaqna.com

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں