روس کا یوکیرین پر قبضہ سرد جنگ کے بعد دنیا بھر کو در پیش اہم ترین چیلنجز میں سے ایک ہے۔ ایک دفاعی تنظیم کے طور پر دوسری جنگِ عظیم کے بعد سوویت یونین کے خطرات کے سامنے یورپ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قائم کردہ نیٹو کو روس کی یوکیرین پر قبضے کی کوشش کی بنا پر طویل المدت حکمتِ عملی پر نظر ثای کرنی پڑی ہے۔ اس حکمت عملی کے دفاع پر یا پھر حملوں پر مشتمل ہونے پر ذہن الجھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
سیتا سلامتی تحقیقاتی امور کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا اس موضوع پر جائزہ ۔۔۔
24 مارچ کو برسلز میں ہنگامی طو ر یکجا ہونے والے نیٹو کے رکن ممالک کے سربراہان کا پہلا ہدف یوکیرین کی جنگ کا نیتو کے رکن ممالک میں سے کسی ایک تک پھیلنے کا سد باب کرنا ہے۔ اس مرحلے پر خاصکر پولینڈ کے روس کے خطرے سے دو چار ہونے کا اندازہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ نیٹو کے متعدد رکن ممالک یوکیرین کی روس مخالف مزاحمت میں تعاون کے لیے براستہ پولینڈ عسکری امداد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال پولینڈ کو روس کے کھلے ہدف کی ماہیت میں بدل چکی ہے۔ جنگ کے ہمسایہ دیگر نیٹو کے ارکان میں بھی اسی چیز کے خدشات پائے جاتے ہیں۔
سربراہان کے ایجنڈے میں شامل ایک دوسرا معاملہ نیٹو کے سٹریٹیجک اہداف کا تعین کرنے پر مبنی ہے۔ سال 2030 ویژن ڈیکومنٹس کے دائرہ عمل میں روس کو مصروف رکھنے والی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کی منصوبہ بندی کرنے والا نیٹو یوکیرین پر قبضے کے بعد اس پالیسی سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیگا۔ کیونکہ روس کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے کہاں پر کھڑے ہونے کی صورتحال غیر یقینی سے دو چار ہے۔ دوسری جانب روس کا نیٹو کی سرد جنگ کے بعد کی توسیع کو روکنے یا پیچھے قدم ہٹانے کے معاملے پر اصرار ہی نیٹو کے لیے روس کو ایک خطرے کے طور پر دیکھنے کے لیے کافی ہے۔ تا ہم یہ کہنا مشکل ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک اس معاملے پر ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ برسلز اجلاس اس بنا پر کافی اہم ہے۔ اس کے تمام تر رکن ممالک نے روس کے غیر حق بجانب حملوں کے برخلاف اپنی اپنی آوازیں بلند تو کی ہیں تا ہم انہوں نے کوئی ٹھوس قدم اٹھانے میں پہل نہیں کی۔
نیٹو کو درپیش چیلنجوں میں سے ایک اس کے رکن ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششیں ہے۔اس معاملے میں طویل مدت سے ابتک جاری ایک پالیسی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے تو روس کے قبضے نے ان پالیسیوں کوسرعت دلائی ہے۔ رکن ممالک کے درمیان اسلحہ سازی میں کم سے کم سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں سے ایک جرمنی تک ایک سو ارب یورو مالیت کے عسکری پروگرام کا آغاز آئندہ کے دور میں یورپ میں اسلحہ اندوزی کو سرعت دلانے والی محرکات کا موجب بنا ہے ۔ نیٹو کو بھی تمام تر رکن ممالک کی دفاعی استعداد کو بڑھانے والے مشترکہ پروگرامو ں میں کثرت لانی پڑے گی۔ تا ہم نیٹو کے رکن ممالک کے مابین جاری رقابت کی دوڑ اس مرحلے پر ایک مسئلہ تشکیل دے رہی ہے۔
مثال کے طور پر امریکہ کی ترکی پر عائد کردہ پابندیاں نیٹو کے بنیادی ڈھانچے کے برخلاف ہے تو نیٹو کے دیگر رکن ممالک کا بھی ترکی کے ساتھ مؤقف میثاق کے اتحادی منشور کو زد پہنچا رہا ہے۔ ترکی اور یونان کے درمیان کچھ مدت سے جاری کشیدگی کو عدم مصالحت کی صورتحال سے خارج کیا جانا چاہیے۔ اس بنا پر روس کے قبضے کو اس طرز کی پالیسیوں سے باز آنے کے لیے ایک موقع کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
روس کی قابض پالیسیاں نہ صرف یورپی سلامتی کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ بیک وقت عالمی سیاست کو بھی گہرائیوں سے متاثر کرنے والے نتائج کو جنم دے رہی ہیں۔ اس جنگ کا فی الفور سد باب کرتے ہوئے ان اثرات کو مزید گہرائیوں تک جانے سے روکا جا سکتا ہے ، اس کے برخلاف کوئی صورتحال کہیں زیادہ وسیع پیمانے کی جنگ چھڑنے کا اشارہ دے رہی ہے۔