لاہور (رپورٹ: حامد ریاض ڈوگر) عمران خان کو اقتدار سے الگ کرنے کے باوجود مسائل حل نہیں ہوںگے‘ کپتان نے عوام کو بہت مایوس کیا‘ نئی حکومت کو گمبھیر چیلنجز درپیش ہوں گے‘ قوم چند سو لوگوں پر مشتمل اقتدار کلب کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے‘ دیانت دار انقلابی قیادت کے اقتدار میں آنے تک ملک میں تبدیلی ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر مولانا محمد جاوید قصوری، مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ اور نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام ’’حرف راز‘‘ کے میزبان محمد عثمان نے ’’جسارت‘‘ کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا عمران خان کی اقتدار سے علیحدگی سے عوام کے معاشی اور سیاسی مسائل حل ہو جائیں گے؟‘‘ مولانا جاوید قصوری نے کہا کہ عمران خان کی اقتدار سے رخصتی سے عوام کے معاشی یا سیاسی مسائل کے حل ہونے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی ایک ہی جیسی ہے‘ جب تک نظام یہی رہے گا محض چہرے بدلنے سے عوام کے مسائل اور پریشانیوں کے خاتمے کی امید نہیں رکھی جا سکتی جب تک اسلامی انقلابی قیادت، اپنے کردار اور امانت و دیانت کی بنیاد پر منتخب ہو کر نہیں آتی جو موجودہ ظالمانہ طبقاتی اور استحصالی نظام کو بدلنے کی اہلیت اور پختہ عزم رکھتی ہو، تب تک قوم چند سو لوگوں پر مشتمل اقتدار کلب کے ہاتھوں میں کھیلتی رہے گی‘ کون نہیں جانتا کہ یہی مخصوص لوگ کبھی ایک جماعت میں شامل ہو کر اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں اور پھر دوسری جماعت میں شامل ہو کر اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں‘ عمران خان کے حصے میں بھی یہی لوگ آئے تھے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ان چہروں اور مروجہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ قوم کی تقدیر بدلنا ممکن نہیں‘ جماعت اسلامی یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کو نظریاتی سیاسی تحریک کی ضرورت ہے جس کے لوگ اعلیٰ کردار، امانت و دیانت اور خدمت کے جذبات سے سرشار ہوں اور کرپشن، بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقربا پروری سے بلند تر رہ کر نظام چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں‘ انہی کے ذریعے عوام کے حالات بدل سکتے ہیں۔ عبدالطیف خالد چیمہ نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان کی اقتدار سے علیحدگی سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے کیونکہ موجودہ مغربی نظام سیاست میں آپ کتنے بھی پارسا شخص کو اعلیٰ منصب پر لے آئیں‘ نظام کی گندگی ساتھ آئے گی‘ جب تک ہم پاکستان بناتے وقت اپنے رب سے کیے گئے وعدے کے مطابق ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ پورا نہیں کریں گے اور مختلف حیلوں اور بہانوں سے انحراف کے راستے پر گامزن رہیں گے اس وقت تک ہماری زندگی میں بہتری آئے گی نہ مسائل سے نجات مل سکے گی‘ ہمارے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل کے حل کا واحد راستہ یہی ہے کہ دھوکے بازوں اور فریب کاروں کے چنگل سے نکل کر اپنے مسائل کے حل کے لیے اپنے خالق و مالک کی اطاعت کا راستہ اپنائیں اور اس کے نظام حیات کو ملک میں رائج کرنے کے لیے سنجیدگی سے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں۔ محمد عثمان نے کہا کہ عمران خان کی اقتدار سے علیحدگی سے عوام کے معاشی اور سیاسی مسائل کے حل ہونے کی فوری طور پر کوئی امید نہیں تاہم حالات کی بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے‘شہباز شریف نے قومی حکومت کی جو تجویز پیش کی ہے‘ اس پر عمل ہو جائے تو قوم کو درپیش سیاسی و معاشی مسائل جو بہت سنگین نوعیت کے ہیں ان کے حل کی امید کی ایک کرن عوام کو دکھائی جا سکتی ہے‘ عمران خان نے دراصل بالکل کچھ نہ کر کے قوم کو مایوس کیا ہے‘ نواز لیگ کے پاس عمران سے بہتر ٹیم موجود ہے اور اگرچہ اقتدار سے علیحدگی کے بعد عمران خان خود نئی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہوں گے اور مسائل بھی بہت گھمبیر ہیں اس کے باوجود امکان موجود ہے کہ نئے حکمران اندرون اور بیرون ملک اپنے تعلقات اور بہتر ٹیم کو استعمال میں لا کر حالات کو بہتری کی جانب گامزن کرسکتے ہیں۔
