تحریر محمد امنان
معاشرے کیسے بنتے ہیں اور اقوام میں اپنی الگ پہچان کیسے بناتے ہیں؟اسکے لئے مضبوط اخلاقی اقدار اور اعلی ظرفی کے بہت ہی بلند معیاروں کی بنیادوں میں اختلافی نکتہ نظر کو ہضم کرنے کا گودہ لازم و ملزوم ہے
جاپان کی مثال لے لیں منظم اور اخلاقیات سے بھرپور قوم ہے ، وقت و قوانین کی پابند کہ وہاں سالوں میں کوئی ایسا واقعہ ہوا کہ صرف پندرہ سیکنڈ کے لیے ٹرین لیٹ ہوئی اور حکومت عوام سے بار بار معافیاں مانگتی رہی۔
جی ہاں ! ایسی اقوام اسی دنیا میں موجود ہیں جہاں ہم رہ رہے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں بد اخلاقی اور معاشرتی برائیاں ہی معیار ہیں جو جتنا بڑا بد تمیز اور غنڈہ صفت ہو گا اتنے ہی بڑے عہدے پہ فائز ہو گا
سیاسیات کی بات کر لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں رائج سیاست دنیا کی غلیظ ترین اور بد ترین سیاست ہے جس میں ذاتی حملوں کی مثالیں آپکو جا بجا مل جائیں گی۔
اقتدار سے چمٹے رہنے کی بیماری اس قدر گھناونی ہے کہ مخالفین کے نام بگاڑنا، بہو بیٹیوں کے نام سر بازار پکارنا اور بازاری الفاظ سے تشبیہ دینا یہ مشغلہ ہے ہمارے سیاستدانوں کا اور نہایت گھٹیا مشغلہ ہے
(پیشگی معذرت) پیلی ٹیکسی، مولانا ڈیزل، ڈاکو، چور، لوطی، جادوگرنی، کوکینی ، گندی نسل کا وزیر اعظم، گراجی نانی وغیرہ وغیرہ یہ وہ الفاظ ہیں جو ہماری سیاست میں ستر سالوں سے رائج ہیں۔
اس سب کا نقصان کیا ہو رہا ہے؟؟ آپ تعلیمی اداروں میں ذرہ جا کر تو دیکھیں عملی زندگی میں پہلی اڑان بھرنے والے طلبا تخلیقی علم کی بجائے گالیاں تخلیق کر رہے ہیں، نت نئی گالیاں ذو معنی الفاظات و القابات ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں ۔
چوری بد دیانتی ، لوٹ کھسوٹ، دھوکہ دہی ، خیانت اور ایسی جملہ برائیاں ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہیں اسکی وجہ ہے سیاسی نظام کی گندگی اور تدریسی عمل کی کمزوری ۔
ایسے الفاظ جو بازاروں میں بھی انتہائی خفیہ انداز میں بولے جاتے ہیں کو ٹی وی چینلز پہ دکھایا جاتا ہے جیسے کہ “دلال” اور “رنڈی” یہ الفاظ نہ صرف بولے گئے اسکی توجیہات بھی پیش کی گئیں۔
ہر سیاستدان ایک دوسرے کو اسٹبلشمنٹ کا آلہ کار کہتا ہے اور اسی اسٹبلشمنٹ سے یارانے کا خواہاں بھی رہتا ہے ہر سیاستدان کی کوشش ہوتی ہے بجائے عوام کی طاقت حاصل کی جائے یہ لوگ اسٹبلشمنٹ کے سائے کے متلاشی رہتے ہیں تاکہ آسانی سے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر لوٹ مچا سکیں ۔
آج ہمارے بعد بننے والے ملک ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں اور ہم اسی کچرے کو بار بار چہروں پہ مل رہے ہیں جس سے ماضی میں نقصان اٹھایا ۔
غریب کی حالت دگرگوں ہے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے اور ہر سیاستدان چاہے وہ موجودہ حکومت سے ہو یا سابقین میں سے اپنے آپ کو اس وقت کا عیسی ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے
گندی زبان اور بازاری جملے ایوانوں میں نہ صرف بولے جاتے ہیں بلکہ عام عوام کے سامنے بھی ان لفظوں سے پرہیز نہیں کیا جاتا جسکا نتیجہ آج معاشرے میں عدم برداشت اور مخالفتوں کی صورت نظر آتا ہے۔
معاشرہ سدھارنے کے دعویداروں کو پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک کر اپنے کرتوت ٹھیک کرنے ہوں گے۔
ورنہ یہ ملک ایسے ہی چلے گا اور آخر کار نتیجہ اخلاقی زوال اور دنیا میں تنہائی ہو گا۔