پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جیب سے ایک خط نکال کر لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بیرونِ ملک سے ان کی حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے اور انھیں ’لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا بھی حوالہ دیا جنھوں نے 45 برس قبل پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کی جانے والی ایک انتہائی جذباتی تقریر میں الزام لگایا تھا کہ ان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کے پیچھے امریکہ ہے جو انھیں اقتدار سے نکالنا چاہتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو نے جب ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کی کوشش کی، ان کی خود داری ہمیشہ پسند تھی، تو فضل الرحمٰن اور نواز شریف کی اس وقت کی پارٹیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنا دیے گئے اور ان حالات کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔‘ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ’یہ ایک بہت بڑی عالمی سازش ہے جسے امریکہ کی مالی مدد حاصل ہے تاکہ میرے سیاسی حریفوں کے ذریعے مجھے نکال دیا جائے۔
تمام تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہی وہ سرپرائز تھا جو عمران خان نے اپنی عوام کو اور اپوزیشن کو دیا ہے۔ تاہم یوں لگ رہا ہے کہ جیسے اس خط کی آڑ میں عمران خان نے مقتدر حلقوں کو اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر انہیں ہٹایا گیا تو شاید وہ بہت سارے راز فاش کر دیں گے مگر ایسا لگتا ہے کہ اب وہ محض ایک ہارا ہوا میچ امپائر کو بلیک میل کر کے جیتنے کی کوشش کررہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں بیلنس آف پاور تبدیل ہوچکا ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ 6 وفاقی وزرا سمیت 29 سے 33 حکومتی اراکین پارٹی سے الگ ہوچکے ہیں۔ یہاں سے اگر پی ٹی آئی چاہے تو وہ اپنی پارٹی کی مدت پوری کروا سکتی ہے، جیسا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے کیا تھا۔ لیکن اس کےلیے عمران خان کو جانا ہوگا۔ دوسری صورت میں اپوزیشن یہ فیصلہ کرے گی کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجائے۔ خاں صاحب کا جانا تو دیوار پر لکھا جاچکا ہے۔ مجھے سمجھ میں نہیں آرہا کہ خان صاحب کو یہ لکھا ہوا کیوں نظر نہیں آرہا ہے؟
عمران خان کی یہ حالت ہو گئی ہے۔ وہ کبھی باغی ارکان اور اپوزیشن کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں اور کبھی اپنے باغی ارکان کی منت سماجت پر اتر آتے ہیں۔ عمران خان اپنی سیاسی زندگی کی مشکل ترین اننگز کھیل رہے ہیں جس میں ان کی شکست کا پورا سٹیج سج چکا ہے لیکن وہ اس بات پر بضد ہیں کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گی۔ مر جاؤں گا۔ حکومت چھوڑ دوں گا۔ چوروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا خان صاحب اپنی تقاریر میں بلند بانگ دعوے کرتے تھکتے ہیں لیکن وہ اپنے بیانات پر یو ٹرن لینے کی شہرت بھی رکھتے ہیں۔
وزیر اعظم نے بحران سے بچ نکلنے میں آخری امید سپریم کورٹ سے وابستہ کر رکھی ہے۔ جہاں صدر مملکت عارف علوی نے ریفرنس دائر کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیا اگر کوئی خیانت کرتا ہے اور وفاداری تبدیل کر کے انحراف کرتا ہے تو کیا ایسی صورت میں اس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی ہے اور اسے ڈی سیٹ کیا جا سکتا ہے۔ ایسے رکن کو تاحیات نا اہلی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیا ایسے غیراخلاقی عمل میں شریک منحرف ارکان کے ووٹ کی کوئی وقعت باقی رہ جاتی ہے اور کیا ایسے ارکان کو ووٹ دینے کا حق دیا جا سکتا ہے؟ کیا ایسے رکن کو تاحیات نا اہل قرار دیا جائے گا؟
اب وزیراعظم کے پاس دو آپشن ہیں۔ ایک وہ باعزت طریقے کے ساتھ مستعفی ہوجائیں اور سکون کریں۔ جیسا کہ جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ عمران دشمنی نے ن لیگ اور پی پی کو ایک کیا ہے۔ یہ کتنی دیر ایک ساتھ رہ سکیں گے؟ یہ پھر ایک دوسرے سے لڑیں گے۔ مطلب، ماضی قریب میں چارٹر آف ڈیموکریسی کے بعد بھی مشرف ٹائم میں کتنی دیر ایک ساتھ رہے تھے؟ یہ جب لڑیں گے تو عمران خان کو دوبارہ سے سیاست کرنے کا موقع مل جائے گا، یہ ریلیونٹ بن جائیں گے۔ یہ اگر تب تک ماضی سے سیکھ چکے ہوئے تو بہت فائدے میں رہیں گے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ وہ اسمبلیاں توڑ کر قبل از وقت انتخابات کی کال دے دیں۔ یہ تب بھی کسی حد تک فائدے میں رہیں گے۔ لیکن، اگر یہ عدم اعتماد ہونے دیتے ہیں اور اس میں ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر ان کی سیاست کو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔ کیا پی ٹی آئی اس نقصان کےلیے تیار ہے؟
پیر، 28 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post وزیر اعظم کا سرپرائز اور ڈھکی چھپی دھمکیاں appeared first on شفقنا اردو نیوز.