اسلام آباد، واشنگٹن(خبر ایجنسیاں) پاکستان نے دھمکی آمیزخط پرامریکا سے شدید احتجاج کرتے ہوئے قائم مقام امریکی ڈپٹی چیف آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کرلیا۔ دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے قائم مقام امریکی ڈپٹی چیف آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کیا اوراندرونی معاملات میں مداخلت پر شدیداحتجاج کیا اور انہیں احتجاجی مراسلہ تھمایا۔ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ کی جانب سے خط میں امریکی حکام کی جانب سے استعمال کی گئی زبان پر شدید احتجاج کیا گیا اور امریکی سفارتکارکو بتایا کہ پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت ناقابل قبول ہے۔ذرائع دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتکارکو قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کی روشنی میں طلب کیاگیا تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی نے غیر ملکی اہلکار کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان کو غیر سفارتی قرار دیا تھا۔قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں عدم اعتماد کی تحریک میں کردار سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی امریکی حکومتی ادارے یا عہدیدار نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر پاکستان کو خط نہیں بھیجا ۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد میں امریکاکے ملوث ہونے اوردھمکی آمیز خط کے الزامات میں صداقت نہیں۔ پاکستانی میڈیا کی طرف سے بھیجے گئے سوالات کے جوابات میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہاکہ پاکستان میں جاری صورتحال کو مانیٹرکررہے ہیں، پاکستان کے آئینی عمل کی تکریم کرتے ہیں، پاکستان میں قانون کی حکمرانی کو سپورٹ کرتے ہیں۔