ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

گیم پلان کس کا ہے: شفقنا خصوصی

27 مارچ کے جلسے میں عمران خان ایک طویل تقریر کے دوران جس کا مرکز ماضی کے وہی الزامات، دشنام طرازیاں اور بہتان ہوتا ہے، ایک جیب خط سے نکال کر لہرانے لگتے ہیں کہ ان کے خلاف غیر ملکی طاقتیں سازشیں کررہی ہیں اور یہ سب ایسے موقع پر بتاتے ہیں جب ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک عمل میں آچکی ہوتی ہے اور ان کے حلیف اور اتحادی انہیں ایک ایک کر کے چھوڑ کر جارہے ہوتے ہیں۔ جس کے لیے وہ کبھی پچکارتے ہیں اور کبھی دھمکیوں اور دھونس سے کام لیتے ہیں۔ عمران خان سمجھ رہے تھے کہ ان کا کھیل ختم ہورہا ہے اور اب ان شخصیت کا کرشمہ اس قدر ماند پڑ چکا ہے کہ شاید تاریخ میں دوبارہ عمران خان اقتدار میں آئے۔ پس انہوں نے ترپ کا وہ پتا کھیلا جو اس ملک میں ایک طویل عرصے سے مذہبی جماعتیں اور سیاسی حریف ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے آئے تھے کہ امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔ پس عمران خان نے اچانک مذہبی لبادہ اتار کہ اپوزیشن پر امریکہ کے یار ہونے کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔
اور اس یاری کے لیے انہوں نے اس خط کو بنیاد بنایا جو درحقیقت ایک سابق سفیر کے تجزیوں پر مبنی ایک مراسلہ تھا۔ بہرحال خط والے معاملے پر انصافی میڈیا سیل، عمرانی صحافیوں اور میڈیا نے عوام کی خوب ذہن سازی کی اور یوں خط کا بیانیہ دے کر عمران خان صاحب نے ایک صریحا ہاری ہوئی بازی جیتنے کی کوشش کی۔ اور اس کاوش میں تاحال کامیاب جار ہےہیں۔ عمران خان کا نیا بیانیہ ایسے حقائق پر مبنی ہے جن کی کوئی ٹھوس بنیاد ہی موجود نہیں ہے۔ عمران خان کی حکومت میں محض سوا سال کا وقت باقی تھی اور ان کی غیر مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ وہ ضمنی انتخابات میں شکست پہ شکست کھا رہے تھے اور بلدیاتی انتخابات میں انہیں کے پی کے میں جس قدر شرمناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہو من و عن ہیں۔ مگر خط والی سازش کے بعد کے پی کے میں گزشتہ روز ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی اس بات کی ضمانت ہے کہ عمران خان مائنڈ گیم کھیل چکے ہیں اور پوری قوم کو غیرت کے نام پر چونا لگا چکے ہیں۔
اگر اس بات کا آزادانہ اندا زمیں تجزیہ کیا جائے کہ کیا واقعی امریکہ عمران خان خلاف کے سازش کررہا ہے اور یہ دھمکی آمیز خط امریکہ کی طرف سے لکھا گیا ہے تو اس کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا عمران خان واقعی امریکہ کے لیے کوئی بڑا خطرہ تھے؟ اور کیا عمران خان اس سطح کے رہنما ہیں جو امریکہ کے لیے خطرہ بن سکیں؟ اس کے لیے سب سے پہلے تو ہم خارجہ پالیسی کی جہت کو دیکھتے ہیں جس سے امریکہ کو مسائل ہوسکتے ہیں۔ اور وہ خارجہ پالیسی میں بلاک تبدیل کرنا ہے۔ عمران خان کی حمایتیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے کسی لیڈر نے پہلی مرتبہ امریکہ کو ابسلیوٹلی ناٹ کہا اور اس پر خوب پوائنٹ سکورنگ کی تاہم امریکہ نے اس بات کے جواب میں دو ٹوک مؤقف اپنایا کہ امریکہ نے افغانستان کے لیے کبھی اڈے مانگے ہی نہیں تو ابسلیوٹلی ناٹ کس چیز کا؟ اس کے بعد ایک طویل عرصہ عمران خان یہ راگ الاپتے رہے کہ انہیں بائیڈن نے فون نہیں کیا کیونکہ افغانستان کے کھیل میں پاکستان ایک اہم کھلاڑی تھا اور اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
بہرحال عمران خان صاحب کے حامی اس سازش کی دوسری وجہ عمران خان کے دورہ روس کو کہتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کسی پاکستانی وزیر اعظم کا پہلا دورہ روس تھا یا روس اور پاکستان کے مابین کسی قسم کی سرد جنگ جاری تھی؟ یا کیا روس اور پاکستان ایک دوسرے کے بدترین دشمن تھے؟ ہرگز ایسا نہیں ہے روس اور پاکستان عمران خان کی آمد سے قبل بھی بہت سارے زمینی و معاشی معاہدوں پر کام کررہے تھے. روس اور پاکستان کے مابین وسط ایشیا میں سٹریٹیجک ہم آہنگی اور پاک افوز جیسے معاہدے اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھے مگر عمران خان جس وقت روس پہنچے اس وقت روس پہنچنے کا مطلب پاکستان کی خارجہ پالیسی کو شدید ترین نقصان پہنچانا تھا۔ خارجہ پالیسی کا ایک کم تر طالب علم بھی سمجھ سکتا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے کیا نتائج نکلیں گے اور روس پر عالمی پابندیوں کے بعد روس کی حالت زار کیا ہوگی اور ان پابندیوں کے بعد روس شاید اپنی معیشت کو سالوں تک نہ سہار سکے وہ کسی کی مدد کیسے کر سکے گا مگر عمران خان کے اس دورے کو عمرانی حمایتیوں نے کامیابی سے تعبیر کیا جب کہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو شدید ترین دھچکا تھا اور بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستان کو فٹیف میں زبردستی دھکیلنے کی سازش تھی ۔
درحقیقت امریکہ روس سے زیادہ چین سے خطرہ محسوس کرتا ہے اور پاک چین تعلقات اور سی پیک ہمیشہ سے اس کی آنکھوں میں چبھتے رہے ہیں۔ اور عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان چین تعلقات پر نظر دوڑائی جائے تو یہ تعلقات مزید بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوئے ہیں ۔  پاک چائینہ اقتصادی راہداری (سی پیک) کو رول بیک کرکے چین اور اس کی اعلیٰ قیادت کو ناراض کر دیا گیا جب کہ امریکہ سابق حکومتوں پر ایک عرصے سے یہ دباؤ ڈال رہا تھا کہ سی پیک کو رول بیک کر دیا جائے مگر وہ اس دباؤ کو قبول کرنے پر تیار نہ تھے مگر عمران خان نے یہ کام بھی خوش اسلوبی سے سرانجام دے دیا۔ سابقہ ادوار میں آئی ایم ایف نے کئی مرتبہ سی پیک معاہدے مانگے مگر انہوں نے انکار کیا تاہم عمران خان نے سی پیک کے تمام معاہدے اٹھا کر آئی ایم ایف کو دیدیے گئے جو مسلم لیگ ن نے دینے سے انکار کر دیا تھا جس سے چین پاکستان سے انتہائی ناخوش تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس کا رحجان بھارت کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا تھا جو کہ امریکہ کی دلی خواہش تھی۔
یہیں پر ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ سابقہ ادوار میں حکومتوں نے آئی ایم ایف سے قرضے لیے اور بلاشبہ یہ قرضے بڑی رقوم کی صورت میں لیے گئے مگر کیا جو معاہدے عمران خان نے محض 6 ارب ڈالر کے لیے کئے اس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ اگر پاکستان کے مرکزی بینک کی خودمختاری بل کو دیکھا جائے تو یہ بات مکمل عیاں ہوجاتی ہے کہ اس ملک کو کس آئی ایم ایف کی اجارہ داری میں دے دیا گیا۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ کیا آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک امریکی اجارہ داری میں نہیں ہیں؟ اگر عمران خان کی حکومت کو امریکہ نے گرانا ہوتا تو اسے ایک غیر مقبول رہنما کو جو پہلے ہی بلند ترین مہگائی اور افراط زر کی وجہ سے انتہائی غیر مقبول ہوچکے ہیں انہیں ہٹانے کے لیے سازش کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ امریکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ذریعے اگر امداد روک دیتا تو شاید عمران خان کی حکومت ایک دن بھی جاری نہیں رہ سکتی تھی مگر حقیقتا یہ حکومت امریکی مفاد میں تھی نہ کہ خلاف تو اسے سازش کی کیا ضرورت تھی؟
مزید برآں اگر امریکہ کی جانب سے ” رجیم چینج” کے پیٹرن کو دیکھا جائے تو کیا امریکہ یہ طریقہ اختیار کرتا ہے؟ کیا امریکہ نے لیبیا، شام اور عراق میں یہ طریقہ اختیار کیا تھا؟ کیا امریکی دماغ اس قدر بے وقوف ہیں کہ وہ اس طرح کھلے عام ایک ملک کے وزیر اعظم کو دھمکیاں دیتے پھر رہے ہیں؟ یقینی طور پر ایسا نہیں ہے امریکہ رجیم چینج کے لیے جو ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے اسے عمران خان جیسے غیر مقبول رہنما پر ہرگز استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، عمران خان کو گلی کوچے میں بوڑھی عورتوں سے لے کر بے روزگار جوانوں تک بددعائیں مل رہی تھیں، امریکہ کو ایسے میں رجیم چینج کا یہ طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ اس کا مطلب واضح ہے کہ یہ گیم پلان امریکہ اور عمران کا ہے نہ کہ امریکہ اور اپوزیشن کا۔ اور پلان کے نتائج سامنے آنے لگ گئے ہیں۔ وہی کے پی کے جس نے بلدیاتی انتخابات کے پچھلے مرحلے میں عمران خان کو مسترد کر دیا تھا ، دوسرے مرحلے میں اس ہیرو بنا رہا ہے اور پی ٹی آئی بڑی نشستیں جیت چکی ہے۔ اس امر میں شاید کسی کو اختلاف ہو کہ عمران خان تاریخ کے کوڑے دان میں جاتے جاتے اچانک سے ہیرو بن گئے ہیں اور انہیں زیرو سے ہیرو بنادیا گیاہے۔
جمعتہ المبارک، یکم اپریل 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post گیم پلان کس کا ہے: شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں